تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 41

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مئی 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد سوم خلیفۃ المسیح کے حکم کے ماتحت خرچ کیا جائے۔جولوگ ایسا نہیں کریں گے، انہیں زائد چندوں میں الگ حصہ لینا پڑے گا۔مثلاً نئے مرکز کی تحریک ہو تولازمی طور پر اس کا الگ وعدہ لیا جائے گا۔لیکن میرا منشاء یہ ہے کہ سر دست عام چندوں اور تحریک جدید کے چندوں کو کاٹ کر جو کچھ بچے ، اسے ریزرور کھا جائے۔مگر یہ ایسی صورت میں ہو سکتا ہے، جب چندہ دینے والا صدرانجمن احمدیہ کو اور مقامی سیکریٹری کو اطلاع دے دے کہ پہلے میرا چندہ اتنا تھا، اب میں اتنا دوں گا۔اس میں سے اتنی ریز روفنڈ رقم ہوگی، جو محفوظ اپنی چاہیے اور اتنی تحریک جدید کی ہوگی۔ورنہ وہ ساری رقم صدر انجمن احمدیہ کے عام چندوں میں داخل کر لی ہے۔جائے گی اور اسے نئے سرے سے چندہ دینا ہوگایا صدرانجمن احمدیہ سے جھگڑا شروع کرنا پڑے گا۔اب تک یہی ہو رہا ہے کہ جو رقم آتی ہے، صدرا مجمن احمد یہ اسے اپنے کھانہ میں جمع کر لیتی - جب تحریک جدید نے اپنے حصہ کا مطالبہ کیا تو ان کو مشکل پیش آگئی۔اور اس سے زیادہ مشکل ان لوگوں کو ہوگی ، جنہوں نے چندہ دیا ہے۔دفتر والے مانگیں گے اور وہ کہیں گے کہ ہم نے چندہ دے دیا ہے۔مگر تحریک والے کہیں گے کہ تمہاری طرف سے کوئی چندہ نہیں آیا۔پس ہر چندہ دینے والا ان پر واضح کر دے که اتنا چنده صدر انجمن احمدیہ کا ہے، اتنا وصیت میں وضع کر لیا جائے ،اتنا تحریک میں دے دیا جائے اور باقی روپیہ ریز روفنڈ میں داخل ہو یا لکھ دیں کہ یہ روپیہ تمبر کی تحریک میں جمع کر لیا جائے۔کیونکہ یہ تحریک ستمبر 47ء میں جاری ہوئی تھی ، اس لئے ریز روفنڈ کی جگہ اس کا نام ” تحریک ستمبر“ مناسب رہے گا۔بہر حال عام قاعدہ یہی ہو گا کہ نئے مرکز کا چندہ اس سے وضع کر لیا جائے گا۔مگر یہ بھی ہوسکتا ہے، جب سب دوست یہ واضح کر دیں کہ پہلے میں اتنا چندہ دیا کرتا تھا، اب اتنا دوں گا۔اور اس میں سے پہلے چندہ کی رقم کاٹ کر باقی روپیہ تحریک ستمبر میں داخل کیا جائے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تمہاری کمزوری کو دیکھتے ہوئے تخفیف کر دی ہے۔میں نے بھی یہ دیکھ کر کہ تم ابھی اس مقام تک نہیں پہنچے، جو کامل ایمان کا مقام ہوتا ہے، اپنے مطالبہ میں تخفیف کر دی ہے۔قرآن مجید کا مفہوم تو اور ہے مگر کمزور ایمان والے اس کے یہی معنی لیتے ہیں اور میں نے بھی انہیں معنوں میں تخفیف کی ہے۔پس اس تحریک کی آئندہ یہ صورت ہوگی کہ ساڑھے سولہ فیصدی سے 33 فیصدی تک چندہ دینا ہو گا۔اور جو لوگ اس مقام پر نہ پہنچ سکیں ، ان کے لئے کم سے کم ایمان کا مظاہرہ یہ ہوگا کہ وہ وصیت کر دیں۔کوئی مردہ کوئی عورت کوئی بالغ بچہ ایسا نہ رہے، جس نے وصیت نہ کی ہو۔تا دنیا کو معلوم ہو جائے کہ تم میں حقیقی ایمان پایا جاتا ہے اور قادیان کے کھوئے جانے کی وجہ سے مقبرہ بہشتی یا اس کے نظام کے متعلق تمہیں کسی قسم کا شک وشبہ پیدا نہیں ہوا۔41