تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 42
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 مئی 1948 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم میں پھر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ چندہ دینے والوں کو یہ بتا دینا چاہیے کہ پہلے وہ اتنا چندہ دیتے تھے اور اب اتنا چندہ دیں گے۔بعض لوگ یہ کرتے ہیں کہ میری اس تحریک کے جواب میں چندہ وصیت کو بڑھا دیتے ہیں۔میری تحریک کا ہر گز یہ مطلب نہیں۔میں نے چندہ بڑھانے کو کہا ہے، وصیت کو بڑھانے کو نہیں کہا۔میری بات کو پورا کرنے والے آپ تبھی بنیں گے، جب آپ اپنے موعودہ چندہ وصیت اور دوسرے موعودہ چندوں سے زائد رقم کو تحریک ستمبر میں جمع کرنے کی ہدایت دیں گے۔اگر وصیت کو بڑھائیں گے تو وصیت کی زیادتی کا ثواب تو ضرور آپ کو ملے گا مگر میری بات کا ثواب آپ کو نہیں ملے گا۔مگر میری بات ماننے کی صورت میں آپ کو دو ثواب ملیں گے۔اسی طرح خدا تعالیٰ چاہے تو ہر شخص کو تحریک کا ممبر بنے کی توفیق بھی مل جائے گی۔آخر تبلیغ کا وہ وسیع سلسلہ، جو تحریک جدید کے ذریعہ دنیا میں نہایت کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور جس کے نہایت اچھے آثار اور خوش کن نشانات نظر آرہے ہیں۔اس کے متعلق کسی مومن کا دل یہ برداشت ہی کس طرح کر سکتا ہے کہ اس میں اس کا حصہ نہ ہو۔ہم تو دیکھتے ہیں، دنیا میں چھوٹی سے چھوٹی باتوں میں بھی حصہ لینے کے لئے انسان تیار ہو جاتا ہے۔بلکہ اچھی باتیں تو الگ رہیں، بری سے بری بات میں بھی حصہ لینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔وو۔۔۔در اصل رو چلنے کی دیر ہوتی ہے۔جب روچل جائے تو لوگ خود بخود اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔اگر ہماری جماعت میں بھی قربانی کی روچل جائے گی تو یہ لازمی بات ہے کہ ہر روانہیں پہلے سے اور زیادہ آگے لے جائے گی اور یہ سلسلہ اسی طرح بڑھتا چلا جائے گا۔ایک کے بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری اور تیسری کے بعد چوتھی رو پیدا ہوگی اور قربانی میں ترقی کرتے کرتے تمہاری یہ حالت ہو جائے گی کہ وہی چیز ، جسے تم آج اپنی موت سمجھتے ہو، اگر اس کے چھوڑنے کا تم سے تمہاری بیوی مطالبہ کرے گی تو تم اس بیوی کو طلاق دینے کے لئے تیار ہو جاؤ گے۔اگر تمہارا بچہ اس قربانی کے خلاف مشورہ دے گا تو تم اس بچہ کو عاق کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ گے۔اور وہی چیز ، جو آج تم کو موت سے پیچھے ہٹا دیتی ہے، تمہیں سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ خدا کے قریب کرنے والی نظر آئے گی“۔( مطبوعه روزنامه الفضل 05 جون 1948ء) 42