تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 517

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 ستمبر 1955ء ہے،صرف اس کے کاٹنے والوں کی ضرورت ہے۔اور یہ مبالغہ نہیں واقعہ ہے کہ مغربی لوگوں میں اسلام کی طرف زبر دست میلان پایا جاتا ہے۔وو "" بہر حال یہ تحریک ہے، جو میں جماعت میں کرتا ہوں۔اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بغیر ہم اسلام کی اشاعت میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔آخر اپنے دلوں میں سوچو اور غور کرو کہ اگر وقف کا سلسلہ جاری نہ رہے تو تمہارا یہ دعویٰ کہ اسلام دنیا پر غالب آجائے گا، کس طرح سچا سمجھا جا سکتا ہے؟ یہ تو ہو گا نہیں کہ ایک دن صبح اٹھ کر م تسبیح پر تین دفعہ سبحان الله سبحان اللہ کہو گے اور امریکہ کا پریذیڈنٹ اور کونسل آف سٹیٹ کے سب ممبر مسلمان ہو جائیں گے اور وہ اعلان کر دیں گے کہ ہم عیسائیت کو ترک کرتے ہیں۔اگر ہم نے واقعہ میں اسلام پھیلانا ہے تو بہر حال ہمیں جدو جہد کرنی پڑے گی اور چھری سے چھری رگڑنی پڑے گی۔تو حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی اشاعت کے لئے جب تک صحیح رنگ میں کوشش نہ کی ہو ، اس وقت تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔اگر ہم اسلام کو پھیلانا چاہتے ہیں تو ہم میں سے ہر احمدی کو یہ عہد کر لینا چاہئے کہ میں اپنے کسی نہ کسی عزیز یا رشتہ دار یا ساتھی کو اسلام کی خدمت کے لئے وقف کر دوں گا۔پھر وہ آگے اپنے ساتھیوں کو اسلام کی خدمت کے لئے تیار کریں اور یہ سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری رہے۔رفتہ رفتہ اتنے لوگ ہمارے پاس جمع ہو جائیں گے کہ ہم انہیں آسانی کے ساتھ مختلف ممالک میں پھیلا سکیں گے اور ان سے دین کی اشاعت کا کام لے سکیں گے۔جب یہ لوگ اسلام کی اشاعت کے لئے ہر شخص تک پہنچیں گے تو چونکہ ان کے دل اسلام کی طرف پہلے ہی مائل ہیں، اس لئے اسلام کی فتح کا دروازہ کھل جائے گا اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کاجھنڈا دنیا میں عزت کے ساتھ قائم ہو جائے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابھی یہ مقام دور نظر آتا ہے۔لیکن جب رو پیدا ہوئی تو کامیابی اتنی سرعت کے ساتھ ہوگی کہ ہمیں خود بھی اس پر حیرت ہوگی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھ لو، تیرہ سال آپ مکہ میں رہے اور تبلیغ کرتے رہے مگر اس تبلیغ کے نتیجہ میں صرف اسی آدمی آپ پر ایمان لائے۔اس کے بعد آپ مدینہ تشریف لے گئے تو تھوڑے عرصہ کے بعد ہی ہزاروں لوگ اسلام میں داخل ہونے شروع ہو گئے۔جس طرح بند ٹوٹنے کے بعد سیلاب کا پانی رک نہیں سکتا، اسی طرح جب لوگوں میں ایک روچل جائے تو پھر گروہ در گروہ لوگ سچائی کو قبول کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور کوئی مخالفت ان کو پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔آج ہمیں اسلام کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کرنے والوں کی ضرورت ہے۔مگر پھر وہ 517