تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 518
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 ستمبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم وقت آئے گا کہ وقف کرنے والے اتنی کثرت سے آئیں گے کہ سوال پیدا ہوگا کہ ان واقفین کو سنبھالے کون؟ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ مجھے یہ فکر نہیں کہ روپیہ کہاں سے آئے گا؟ مجھے یہ فکر ہے کہ رو پید کو سنبھالنے والے کہاں سے آئیں گے؟ اسی طرح مجھے بھی یہ فکر نہیں کہ اسلام کی تبلیغ کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنے والے کہاں سے آئیں گے؟ مجھے یہ فکر ہے کہ وقف کرنے والے اس کثرت سے آئیں گے کہ ان کو سنبھالے گا کون؟ دل خدا کے قبضہ قدرت میں ہے، جن دلوں کو وہ آپ صاف کر دے گا، وہ دین کی خدمت کے لئے آگے آجائیں گے۔پھر ان کو دیکھ کر سینکڑوں لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو اپنے آپ کو وقف کرنے کے لئے پیش کر دیں گے اور ان سینکڑوں سے ہزاروں اور ہزاروں سے لاکھوں پیدا ہو جائیں گے۔ہم بچے تھے تو ہم کتابوں میں ایک کہانی پڑھا کرتے تھے کہ جب بادل آتا ہے تو قطرے آپس میں جھگڑتے ہیں۔ایک کہتا ہے، میں زمین پر گر کر کیوں جان دوں؟ دوسرا کہتا ہے، میں کیوں جان دوں؟ آخر ایک قطرہ آگے بڑھتا اور زمین پر گرتا ہے، اس کے بعد دوسرا گرتا ہے، پھر تیسرا گرتا ہے، پھر چوتھا گرتا ہے اور پھر موسلا دھار بارش شروع ہو جاتی ہے۔یہی حال دین کی قربانی کا ہے۔پہلے قربانی کرنے والے جب قربانی کرتے ہیں تو ان کو دیکھ کر دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ انہیں تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ہم تو سمجھتے تھے کہ یہ تباہ ہو جائیں گے مگر ان کی تو ہم سے بھی زیادہ عزت ہوئی اور ہم سے بھی زیادہ انہوں نے کامیابی حاصل کی۔آؤ ہم بھی انہی کے پیچھے چلیں۔چنانچہ وہ بھی اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر دیتے ہیں۔اور پھر یہ سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ زمانہ آجاتا ہے کہ انسان کہتا ہے، میں کس کو رکھوں اور کس کو رد کروں ؟ کس کو چنوں اور کس کو نہ چنوں؟ اس زمانے کے آنے سے پہلے پہلے جولوگ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے پیش کریں گے، وہ خدا تعالیٰ کے حضور مقبول ہوں گے اور اس کی برکتوں سے اتنا حصہ پائیں گے کہ بعد میں آنے والے ان برکات کا عشر عشیر بھی نہیں لے سکیں گے۔کیونکہ الفضل للمتقدم فضیلت انہی کوملتی ہے، جو نیکی اور قربانی کی راہوں میں سبقت اختیار کرتے ہیں۔مجھے شکوہ ہے کہ کراچی والے اب تک دگنے کیوں نہیں ہو گئے ؟ میں کئی سال سے انہیں توجہ دلا رہا ہوں ،مگر ابھی تک وہ دگنے نہیں ہوئے۔لیکن سچی بات یہ ہے کہ انہیں دگنا ہونے کی نصیحت کرتے ہوئے بھی مجھے شرم آتی ہے۔اصل بات تو یہ ہے، اصل بات یہ ہے کہ انہیں موجودہ تعداد سے دو سو گنے زیادہ ہونا چاہئے۔اگر وہ سچے دل سے کوشش کریں اور اپنی جدو جہد کو تیز کر دیں تو وہ دیکھیں گے کہ کس طرح خدا تعالیٰ کی مدداور اس کی نصرت ان کے شامل حال ہوتی ہے اور انہیں ان کے مقصد میں کامیاب کرتی ہے۔518