تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 515

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 ستمبر 1955ء میں نے ایک سے دو بننا ہے، دو سے چار بننا ہے، چار سے آٹھ بننا ہے، آٹھ سے سولہ بننا ہے ، سولہ سے بتیں بنا ہے، بتیس سے چونسٹھ بننا ہے اور چونسٹھ سے 128 بننا ہے۔ہماری جماعت ، آخر لاکھوں کی جماعت ہے۔اگر ہر دس سال کے اندر ایک، ایک شخص کے ذریعہ دو، چار احمدی بھی پیدا ہو جائیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اگلے دس سال میں پندرہ بیس لاکھ ہو جائیں گے۔اس سے اگلے دس سال میں اسی لاکھ ہو جائیں گے اور اس سے اگلے دس سال میں ڈیڑھ کروڑ تک ان کی تعداد پہنچ جائے گی۔اگر ایسا ہو جائے تو ہم امید کر سکتے ہیں کہ یہ ڈیڑھ کروڑ ، دوارب تک اسلام کا پیغام پہنچا سکتا ہے۔لیکن اگر یہ نہ ہو اور ہر شخص سمجھ لے کہ میرے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ میں نے چندہ دے دیا ہے۔تو یورپ اور امریکہ کو اسلام کون سمجھائے گا؟ اور اگر سمجھانے والا کوئی نہیں ہوگا تو مانے گا کون؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کے دل اس وقت اسلام کی طرف مائل ہیں۔۔۔۔۔اب خدا تعالی کے فضل سے چونکہ قرآن کریم کے تراجم یورپ میں شائع ہو چکے ہیں، اس لئے لوگ جب ان کو پڑھتے ہیں تو بڑے متاثر ہوتے ہیں۔ہمارا ڈرائیور ایک جرمن مسٹر سٹوڈر تھا۔اس نے بھی قرآن کا ترجمہ پڑھا۔ایک دن ہم ڈاکٹر کے ہاں جا رہے تھے کہ وہ کہنے لگا، حضرت صاحب میں نے آپ سے کچھ باتیں پوچھنی ہیں؟ میں نے کہا، پوچھو۔کہنے لگا، میں نے قرآن پڑھا ہے، اس میں بڑی اچھی باتیں ہیں۔لیکن آپ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت بہت تھوڑی ہے۔اب آپ مجھے بتائیں کہ اگر اسلام میری سمجھ میں آجائے تو میں دنیا کے لئے مفید وجود کس طرح بن سکتا ہوں، آیا اس طرح کہ اکثریت کے ساتھ شامل ہو جاؤں یا اس طرح کہ اقلیت کے ساتھ شامل ہو جاؤں؟ چھوٹی جماعت میں مل جاؤں تو میں کیا کام کر سکتا ہوں؟ میں تو اسی صورت میں مفید کام کر سکتا ہوں، جب میں ایک بڑی جماعت میں ہوں۔بات اس کی معقول تھی اور اس کا مطلب یہ تھا کہ احمدی بننے سے مجھے کیا فائدہ ہوگا؟ جبکہ احمدی بننے سے ماریں کھانی پڑتی ہیں، لوگوں کی گالیاں سننی پڑتی ہیں۔میں نے کہا، مسٹرسٹوڈر ایک بات آپ نے نہیں سوچی اور وہ یہ کہ اکثریت کی موجودگی میں اقلیت کی ضرورت کیا تھی ؟ اگر اقلیت کی ضرورت تھی اور اگر اقلیت کے پاس کوئی اچھی چیز ہے تو پھر اس میں شامل ہونا چاہئے۔اور اگر اس کے پاس کوئی اچھی چیز نہیں تو آپ دوسروں سے مل کر اقلیت کو ختم کر دیں۔آخر اس نے جھگڑا کیوں ڈالا ہے اور کیوں وہ اکثریت کے مقابلہ میں کھڑی ہے؟ اور اگر اقلیت میں واقع میں کوئی اچھی بات ہے تو تم بتاؤ کہ اکثریت میں مل کر اچھی بات کو ختم کر دینا اچھا ہے یا اچھی بات کو قائم رکھنے کے لئے اقلیت کے ساتھ مل کر کام کرنا اچھا ہے ؟ اگر اس 515