تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 514

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 ستمبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم دینے سے امریکہ اور انگلینڈ کے کسی آدمی کا دماغ کس طرح ٹھیک ہوسکتا ہے؟ اس کا دماغ تو اسی طرح درست ہو سکتا ہے کہ اسے سمجھایا جائے کہ تیری رائے غلط ہے، تیرے عقائد غلط ہیں اور صحیح رستہ وہی ہے، جو اسلام نے پیش کیا ہے۔اور یہ بات آپ لوگوں کے چندوں سے نہیں ہو سکتی۔آپ خود وہاں جائیں یا آپ کے نمائندے اور قائم مقام وہاں جائیں ، تب یہ کام ہو سکتا ہے، اس کے بغیر نہیں۔شاید آپ کہیں کہ اسی لئے تو تبلیغی کالج مقرر کیا گیا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ تبلیغی کالج میں کتنے بچے جارہے ہیں؟ جہاں تک میراعلم ہے، تبلیغی کالج میں تھیں، پینتیس طالب علم ہیں۔اور دنیا کی آبادی دو ارب ، تمہیں کروڑ ہے۔دوارب ہیں کروڑ کی آبادی کو 35 آدمی کس طرح سمجھا سکتے ہیں؟ یہ 35 آدمی تو ان کو دیکھ بھی نہیں سکتے۔پاس جانا اور سمجھانا تو دور کی بات ہے، خالی ان کو دیکھ لینے کی بھی ان 35 آدمیوں میں طاقت نہیں ہو سکتی۔پس اسلام اگر غالب آ سکتا ہے تو اسی طرح کہ ہماری جماعت کوئی ایسا طریق اختیار کرے، جس کے نتیجہ میں ان لوگوں تک پہنچا جا سکے۔اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ وقف کی تحریک کو کامیاب بنایا جائے۔مگر میرے نزدیک ہماری جماعت میں جیسے چندہ کی تحریک کامیاب رہی ہے، ویسے ہی وقف کی تحریک ناکام رہی ہے۔میں نے دوستوں میں وقف اولاد کی تحریک کی تھی مگر میں دیکھتا ہوں کہ اب یا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد کا وقف ہے اور یا پھر میری اولاد کا وقف ہے، باقی خانہ ، سب خالی ہے۔مگر نہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولا دسب جگہ پہنچ سکتی ہے اور نہ میری اولا دس جگہ پہنچ سکتی ہے۔بلکہ اس تصور سے بعض دفعہ دل کانپ جاتا ہے کہ باقی احمد یوں کو دیکھ کر کہیں میری اولاد کے دل میں بھی بے ایمانی پیدا نہ ہو جائے اور وہ یہ خیال نہ کرے کہ ہم ہی قربانی کے بکرے کیوں بنیں؟ جب باقی احمدی اس طرف توجہ نہیں کرتے تو ہم بھی اس کام کو کیوں اختیار کریں؟ میں اللہ تعالیٰ سے امید تو نہیں کرتا کہ میری اولاد میں یہ خیالات پیدا ہو جائیں ، مگر ڈر آتا ہے کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے، ایسا نہ ہو کہ میری اولاد کے دل میں بھی کسی وقت خیال آجائے کہ اگر اور کوئی احمدی اپنے آپ کو وقف نہیں کرتا تو ہم بھی کیوں کریں؟ آخر اسلام پر ضعف آیا تو اسی وجہ سے کہ مسلمانوں نے کہنا شروع کر دیا کہ کئی مسلمان ہیں، جو نمازیں نہیں پڑھتے ،کئی مسلمان ہیں، جو روزے نہیں رکھتے۔مطلب یہ تھا کہ اگر دوسرا ان احکام کو چھوڑ سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں چھوڑ سکتے ؟ نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ انہوں نے بھی نماز روزہ کو ترک کر دیا۔پس جب تک جماعت میں وقف کی تحریک مضبوط نہ ہو، اس وقت تک ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنا ناممکن ہے۔اس کے لئے اول تو جماعت کے ہر فرد کے دل میں یہ احساس پیدا ہونا چاہئے کہ 514