تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 488
اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 18 فروری 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک وکالت مال سے روزانہ کام کی رپورٹ لو۔پھر اختر صاحب کو بلا کر کہا کہ دفتر کے کام میں فلاں نقص ہے، ان سے وہ نقص دور کراؤ اور مجھے ست جماعتوں کی لسٹ بھجواؤ۔لیکن وہ ہر دفعہ جی حضور ہی کرتے رہے ہیں اور ابھی تک ان جماعتوں کی لسٹ پیش نہیں کی۔یہ ایک حسابی کمزوری تھی کوئی اخلاقی کمزوری نہیں تھی ، جس کے دور کرنے میں دقت پیش آتی۔صرف حساب کی بات ہے، کاپی پر پچھلے سالوں کے وعدے بھی لکھے ہیں اور اس سال جو وعدے آئے ہیں، وہ بھی لکھے ہیں، ان کا مقابلہ کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ایک جماعت کا پچھلے سال اتناوعدہ تھا اور اس سال اتنا وعدہ ہے یا اس سال اس نے اپنے وعدے نہیں بھجوائے۔پھر بجائے اس کے کہ الفضل میں میرے خطبات کے حوالے شائع کئے جائیں، کیوں نہ ان 25 یا 30 جماعتوں پر زور دیا جائے کہ وہ اپنے نقص کو دور کریں؟ ساری جماعتوں کو کیوں بدنام کیا جائے؟ بہر حال اس وقت تک جو وعدے آئے ہیں ، وہ قریبا 2/3 ہیں۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ 2/3 جماعتوں نے اپنی ذمہ داری کو پوری طرح ادا کیا ہے۔پھر ان 2/3 جماعتوں کو کیوں بدنام کیا جائے ؟ باقی 1/3 جماعتوں پر کیوں زور نہ دیا جائے؟ بلکہ ان 1/3 جماعتوں میں سے بھی بعض جماعتوں نے وعدے بھیج دیئے ہوں گے یا ان کے وعدے آنے والے ہوں گے۔بہر حال جن جماعتوں نے وعدے نہیں بھجوائے ، ان سے کہو کہ یا وعدے بھجوا دیا جواب دو۔یا تم اپنا انسپکٹر وہاں بھیج کر ان سے وعدے لیتے۔لیکن تم ہر دفعہ جی حضور کہہ چلے جاتے ہو۔وکالت مال میں جو نیا عملہ لگا ہے، وہ ایسا غیر مبارک ثابت ہوا ہے کہ وہ جی حضور سے آگے نہیں جاتا۔ویسے وہ مخلص ہیں، لیکن ان میں کام کرنے کی قابلیت نہیں۔جی حضور پر بات ختم کر دیتے ہیں۔حالانکہ بجائے اس کے کہ وہ ساری جماعتوں کو مخاطب کریں، انہیں صرف ان جماعتوں کی طرف توجہ کرنی چاہیے تھی ، جنہوں نے اس وقت تک سستی سے کام لیا ہے۔ساری جماعت کو مخاطب کرنا ، اسے ست کر دیتا ہے۔ایک شخص نہ صرف روزانہ پانچ نمازیں پڑھتا ہے بلکہ روزانہ نماز تجھ بھی ادا کرتا ہے، اسے اگر یہ کہا جائے کہ تم پانچ وقت نماز پڑھا کرو تو یہ کتنی بے وقوفی کی بات ہے۔وہ تو پانچ نمازوں کے علاوہ تہجد بھی ادا کر رہا ہے۔تم ان لوگوں کے پاس جاؤ، جونماز نہیں پڑھتے۔اسی طرح الفضل میں نوٹس شائع کرنے کے یہ معنی ہیں کہ ساری جماعت نے وعدے بھجوانے میں سستی سے کام لیا ہے۔حالانکہ ایسا کہنا، درست نہیں۔اکثر جماعتوں نے اخلاص کا پورانمونہ دکھایا ہے۔الفضل میں اس قسم کے مضامین پڑھ کے ہر ایک شخص یہ سمجھتا ہے کہ میرے سوا باقی سب سست ہیں۔مثلاً کراچی والے اخبار پڑھتے ہیں تو سمجھتے ہیں، کراچی والوں نے تو وعدے بھجوا دئیے ہیں ، اس کا ہمیں علم ہے، معلوم ہوتا ہے، باقی سب جماعتیں بددیانت ہیں۔لاہور 488