تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 458
اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں سے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں اور بعض دفعہ تو کہہ بھی دیتے ہیں کہ یہ بوجھ زیادہ بڑھایا جارہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔تو میں اس بات کا بھی قائل ہوں کہ خلیفہ کوئی بات ایسی نہیں کر سکتا، جس کو کہ بعد میں پورا نہ کیا جاسکے۔کوئی اس کو مبالغہ کہہ لے، کوئی اس کو خود پسندی کہہ لے، کوئی کچھ کہہ لے مگر میرا یہ یقین ہے اور میں سمجھتا ہوں، یہ لازمی نتیجہ ہے، اس بات کا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے کہ جو بھی خلیفہ کام شروع کرے گا ، وہ اسلام کی ترقی کے لئے ضروری ہوگا۔اور جب وہ ضروری ہوگا تو جماعت کے اندر ضرور اس کی طاقت ہو گی۔وہ اپنی غفلت سے اس کو پورا کر سکے یا نہ کر سکے، یہ اور بات ہے۔لیکن جہاں تک امکان کا تعلق ہے، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ نا ممکن تھا، اس جماعت کے لئے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اب تبلیغ ایسے رنگ میں آچکی ہے اور مشن ایسی طرز پر قائم ہو چکے ہیں کہ شاید چند مشن اور قائم ہونے کے بعد ہم ساری دنیا میں شور مچاسکیں۔اگر اس وقت صرف چھ سات مشن اور دنیا میں قائم ہو جائیں تو ایک وقت میں ساری دنیا میں آواز بلند ہوسکتی ہے۔اور ایسی طرز پر آواز اٹھ سکتی ہے کہ لوگوں کو اسلام کی طرف لازماً توجہ کرنی پڑے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان موجودہ مشنوں کو قائم رکھا جائے اور چھ ، سات مشن اور قائم کر دئیے جائیں اور مساجد بنائی جائیں اور لٹریچر شائع کیا جائے۔یہ ساری چیزیں ہو جائیں تو دنیا کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسلام اب دنیا میں سنجیدگی کے ساتھ عیسائیت کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہو گیا ہے۔تم تو خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت زیادہ ہو، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا، مردم شماری کرو، مدینہ میں کتنے مسلمان ہیں؟ تو ان کے دلوں میں شبہ پیدا ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کیوں فرماتے ہیں؟ بہر حال چونکہ آپ کا حکم تھا، وہ گئے اور انہوں نے مردم شماری کی۔اور اس وقت سات سو مسلمان نکلے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آ کر کہا یا رسول اللہ ! ہم سات سو نکلے ہیں۔مگر آپ نے کیوں مردم شماری کرائی تھی؟ کیا آپ کو یہ وہم تھا کہ اب مسلمان تباہ نہ ہو جائیں ؟ وہ زمانہ جب ہم تباہ ہو سکتے تھے، وہ گزر گیا۔اب تو ہم دنیا میں سات سو ہیں، اب ہمیں کون تباہ کر سکتا ہے۔دیکھو، کس قدر یقین اور ایمان ان کے اندر تھا۔یہی حال تم اپنا سمجھ لو۔ایک زمانہ وہ تھا ، جب اسلام کی آواز اٹھانے والا دنیا میں کوئی نہیں تھا۔اب تمہارے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ برکت پیدا کی ہے اور تم کو اس برکت کا حاصل کرنے والا بنایا ہے۔امریکہ میں تمہارے مشن ہیں، اسی طرح تمہارا مشن انگلینڈ 458