تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 447

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سو اقتباس از خطبه جمعه فرمود : 17 دسمبر 24 کیسے خوش ہو جاتے ہو؟ چار کروڑ میں ایک مبلغ تب ہی کوئی مفید کام کرسکتا ہے، جب وہ ایک سے دو ہو جائیں، دو سے چار ہو جائیں، چار سے آٹھ ہو جائیں، آٹھ سے سولہ ہو جائیں ،سولہ سے بہتیں ہو جائیں، بتیس سے چونسٹھ ہو جائیں اور چونسٹھ سے سو ہو جائیں اور سو سے دو سو ہو جائیں۔تب تو ہم امید رکھ سکتے ہیں کہ اس ملک میں کوئی حرکت پیدا ہوگی۔اور چاہے نتیجہ زیادہ شاندار نہ ہو لیکن لوگ یہ تو سمجھیں گے کہ جماعت اشاعت اور ترقی اسلام کے لئے قربانی کر رہی ہے۔لیکن اصل کام ہم سبھی کر سکتے ہیں، جب ہمارے پاس کافی تعداد میں لٹریچر ہو، ہمارے ایک مبلغ کے پاس سینکڑوں کتابیں ہوں تا لوگ وہ کتابیں اپنے گھروں میں لے جا کر پڑھ سکیں۔کوئی انسان چاہے کتنا ہی مصروف ہو، گھر میں اسے کچھ نہ کچھ فارغ وقت مل سکتا ہے۔لیکن ایسی فراغت کی گھڑیاں بہت کم ملتی ہیں کہ وہ کسی مبلغ کے پاس جا کر گھنٹہ، دو گھنٹے تک اس کی باتیں سن سکے۔پس ہمارے مبلغ تبھی کامیاب ہو سکتے ہیں، جب ہم انہیں کافی تعداد میں لٹریچر دیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لٹریچر کے مطالعہ سے بعض نئے شبہات پیدا ہو سکتے ہیں، جن کا ازالہ ضروری ہوتا ہے۔اس کے لئے مبلغ کی موجودگی ضروری ہوتی ہے، جو زبانی مل کر ان اعتراضات کے جوابات دے۔اگر کوئی قوم صرف لٹریچر پر ہی اپنی بنیا درکھ لیتی ہے تو یہ اس کی بہت بڑی غلطی ہوتی ہے۔مشنری کا ہر ملک میں ہونا ضروری ہے۔لیکن جب تک لٹریچر نہ ہو، وہ مشنری اپنا کام وسیع نہیں کر سکتا۔وہ دس ہیں آدمی اپنے گردا کٹھے کرلے گا لیکن کروڑوں کی اصلاح اس سے نہیں ہو سکے گی۔کروڑوں کی اصلاح اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ لٹریچر بڑی تعداد میں شائع کیا جائے اور اسے ملکوں میں پھیلا دیا جائے اور پھر ہر ملک میں مشنری موجود ہوں، جوان لوگوں کے شبہات کا ازالہ کریں اور اسلام کے مسائل انہیں سمجھا ئیں۔امریکہ کی آبادی 16 کروڑ کی ہے۔فرض کرو، وہاں ایک لاکھ شہر اور قصبات ہیں تو اب اگر ہر شہر اور قصبے میں ہمارا ایک آدمی ہو تب تو کوئی حرکت پیدا ہو سکتی ہے۔اگر چہ مبلغین کی یہ تعداد بھی کافی نہیں۔لیکن اگر دو، دو ہزار میل پر مبلغ بیٹھا ہوا اور اس کے پاس لٹریچر بھی نہ ہو تو لوگوں کی توجہ اس کی طرف کیسے ہو سکتی ہے؟ ہم تو ابھی تک ابتدائی کام بھی نہیں کر سکے۔لیکن اصل کام یہ ہے کہ ہم لٹریچر کو تمام دنیا میں پھیلا دیں تاکہ مخالفین کے حملوں کا جواب دیا جا سکے۔لٹریچر کا اس قدراثر ہوتا ہے کہ ہمارے ایک مبلغ ابھی سوئٹزر لینڈ سے آئے ہیں، وہ مجھے ملنے کے لئے آئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ ان کی کوششوں کا کیا نتیجہ نکلا ہے؟ انہوں نے کہا، آدمی تو بہت تھوڑے ہماری جماعت میں داخل ہوئے ہیں۔یعنی ابھی تک صرف دس بارہ آدمی اسلام میں داخل ہوئے 447