تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 446

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 دسمبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم غیرت ہوں کہ تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملے کرتے جاؤ اور میں خاموش رہوں؟ میں نے دو دفعہ تمہیں توجہ دلائی کہ تم مذہب کی ضرورت کے متعلق بات کرو، بار بار بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے نہ کرو۔لیکن چونکہ تم حملہ کرنے سے باز نہیں آئے ، اس لئے میں نے سمجھ لیا کہ عیسائی مصنفین کی کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد تم سمجھتے ہو کہ مسیح انسانیت کے ہمدرد تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نعوذ باللہ انسانیت کے بڑے دشمن ہیں۔وہ کہنے لگا کچھ ہو، میں مسیح کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتا۔میں نے کہا، اگر تم دہر یہ ہو کر مسیح علیہ السلام کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتے تو میں مسلمان ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف باتیں کیوں سنوں؟ اگر تم نے دوبارہ میرے آقا کی شان میں کوئی نازیبا لفظ استعمال کیا تو میں بڑی تختی سے تمہارے مسیح پر حملہ کروں گا۔اس پر اس نے بات ختم کر دی اور چلا گیا۔اس واقعہ سے تم یہ سمجھ سکتے ہو کہ وہ لوگ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی سے بھرے ہوئے ہیں، جنہیں عیسائیت سے کوئی تعلق نہیں۔وہ دہر یہ ہیں اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔وہ محض اس وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن ہیں کہ بچپن سے ان کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ نعوذ باللہ دنیا اور انسانیت کے بدترین دشمن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اب تم سمجھ سکتے ہو کہ اس نبغض کو نکالنا آسان بات نہیں۔اس کے لئے بہت بڑی قربانی کی ضرورت ہے۔جو یورپین لوگ مسلمان بھی ہو جاتے ہیں، ان کے ذہنوں میں یہ بات ڈالنے میں کافی عرصہ لگ جاتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسیح علیہ السلام سے افضل ہیں اور آپ کو خدا تعالیٰ نے جوشان عطا فرمائی ہے، وہ صبیح علیہ السلام کو عطا نہیں فرمائی۔پتھر کی لکیر کا بدلنا آسان ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دشمنی کو ان کے ذہنوں سے نکالنا بہت مشکل ہے۔اس کے لئے جتنی بھی قربانی کی جائے کم ہے۔پس تم اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو اور اپنی قربانی کو اس کے مطابق بناؤ تا تمہارے کاموں میں برکت ہو۔جو مدعا اور مقصد تم نے اپنے سامنے رکھا ہے، وہ بہت بڑا ہے۔تم سمجھتے ہو کہ کسی ملک میں مبلغ بھیج دیا تو کام ہو گیا۔لیکن تم یہ نہیں سمجھتے کہ اس کے پاس تبلیغ کے لئے کتنا وقت ہے؟ اتنے وسیع ملک میں وہ اکیلا کیا کر سکتا ہے؟ مثلاً امریکہ کی آبادی سولہ کروڑ کی ہے اور وہاں پر ہمارے پاس صرف چار مبلغ ہیں۔اب چار کروڑ میں ایک مبلغ کیا کر سکتا ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گاؤں میں کوئی دیہاتی مبلغ بھیجا جاتا ہے اور پھر اسے کسی اور گاؤں میں بھیجا جاتا ہے تو گاؤں والے شور مچا دیتے ہیں کہ ہمیں مبلغ کی ضرورت تھی ، اسے واپس کیوں بلایا گیا ہے؟ حالانکہ اس گاؤں کی آبادی چار، پانچ سو ہوتی ہے۔پھر تم چار کروڑ میں ایک مبلغ بھیج کر 446