تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 448
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 دسمبر 1954ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم ہیں۔مگر ہم اصل کام اس کو نہیں سمجھتے۔بلکہ اصل کام ہم اس کو سمجھتے ہیں کہ پہلے یورپین لٹریچر میں خلاف اسلام باتیں شائع ہو جاتی تھیں تو ان کا کوئی جواب دینے والا نہیں ہوتا تھا۔پھر ایک وقت آیا کہ ہم ان باتوں کی اصلاح کرنے لگے۔لیکن کوئی اخبار ہمارا مضمون شائع نہیں کرتا تھا۔لیکن اس اخبار تک یہ خبر ضرور پہنچ جاتی تھی کہ اس ملک میں اسلام کے حق میں لکھنے والے بھی موجود ہیں۔لیکن اب اس حد تک کامیابی ہو چکی ہے کہ اخبارات ہمارے جوابات بھی شائع کر دیتے ہیں اور یہ اخبار لاکھوں کی تعداد میں چھپتے ہیں۔اسی طرح ہماری آواز لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔بلکہ اب اخبارات اسلام سے تعلق رکھنے والے مضامین اشاعت سے پہلے ہمارے پاس بھیج دیتے ہیں کہ آپ اگر کوئی رائے دینا چاہیں تو دے دیں۔غرض دس بارہ آدمیوں کا مسلمان ہو جانا تو کوئی بڑی کامیابی نہیں۔اصل کامیابی یہ ہے کہ ملک کے رہنے والوں کو یہ پتہ لگ گیا ہے کہ اگر یہاں اسلام کے مخالف موجود ہیں تو اس کے موید بھی، چاہے وہ کتنی کم تعداد میں ہیں، موجود ہیں۔لیکن اگر لٹریچر پھیل جائے تو اس سے بھی زیادہ اثر ہو۔پس تحریک جدید کوئی معمولی ادارہ نہیں بلکہ اسلام کے احیاء کی کوششوں میں سے ایک زبردست کوشش ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور یہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔جب تک قرآن کریم موجود ہے، اس وقت تک اسلام بھی باقی رہے گا۔کیونکہ قرآن ، اسلام ہے اور اسلام، قرآن ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہ چیز ، جو ظاہر میں موجود ہے، لوگوں کے دلوں میں بھی پیدا ہو جائے۔دلوں میں جو تعلیم موجود ہو، وہ بہت زیادہ اثر کرنے والی ہوتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ ) کہ جب کفار قرآن کریم کی تعلیم کو دیکھتے ہیں تو چاہتے ہیں، ی تعلیم ان کے ہاں بھی ہوتی۔اور وہ خواہش کرتے ہیں کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے اور یہ خیالات ان کے بھی ہوتے۔گویا قرآن کریم کے دوست کفار میں بھی تھے اور وہ دوست ان کے دماغ تھے۔وہ قومی تنافر اور بغض کی وجہ سے مسلمانوں سے لڑتے تو تھے لیکن ان کے دماغ کہتے تھے کہ بات وہی کچی ہے، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے ہیں۔پس قرآن کریم ظاہر میں تو اب بھی زندہ موجود ہے۔لیکن جو قرآن لوگوں کے دماغ میں تھا، وہ اب موجود نہیں۔اب دماغوں میں غلط خیالات بس گئے ہیں۔اگر ہم لٹریچر زیادہ تعداد میں شائع کریں تو چاہے اسلام آہستہ آہستہ پھیلے لیکن اس کا یہ نتیجہ ضرور نکلے گا کہ چاہے ملک میں سولہ کروڑ دشمن موجود ہوں لیکن جب بھی ہمارا مبلغ آواز اٹھائے گا تو بوجہ اس کے کہ لٹریچر کے ذریعہ ان کے 448