تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 32

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 مئی 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم ایسا شخص 50 فیصدی چندہ دے دیتا ہے اور پھر اس کے پاس اتنار و پیہ بچ جاتا ہے، جس سے وہ گوشت کھاتا ہے تو دال کھانے والا آدمی اس پر یہ اعتراض نہیں کر سکتا ہے کہ وہ دال کیوں نہیں کھاتا؟ یہ اعتراض اسی وقت ہو سکتا ہے، جب جماعتی طور پر یہ فیصلہ کیا جائے کہ ہر شخص دال ہی کھائے۔تب بے شک اگر کوئی شخص دال نہیں کھاتا اور شور بہ کھاتا ہے تو وہ غداری کرتا اور دھوکہ بازی کا ارتکاب کرتا ہے۔پھر اس خاتون نے لکھا ہے کہ خاندان کی عورتیں کام نہیں کرتیں۔یہ بھی واقعہ کے خلاف ہے۔اول تو ہر چیز کی ایک نسبت ہوتی ہے۔میری بڑی بیوی کی عمر اس وقت 57 سال کی ہے۔پھر انہیں بلڈ پر یشر کا مرض ہے، دل کی دھڑکن تیز ہے اور استحاضہ کی بھی بیماری ہے، جس میں عورت قریب المرگ ہو جاتی۔اب مساوات تو تبھی ہوسکتی ہے ، جب اس عورت کو بھی یہی بیماریاں ہو جائیں۔ورنہ یہ کتنی حماقت کی بات ہوگی کہ ساٹھ سالہ عورت کے متعلق ایک 25 سالہ عورت یہ کہنے لگ جائے کہ دیکھو میں یہ کام کر لیتی ہوں ، وہ نہیں کرتی۔اس عمر اور ان بیماریوں کے ساتھ اگر موازنہ کیا جائے ، پھر مساوات ہوتی ہے۔ولایت میں دستور ہے کہ گھوڑ دوڑ سے پہلے گھوڑے اور سوار کا وزن کر لیتے ہیں اور جتنی کمی ہو، اتنا بوجھ ساتھ باندھ دیتے ہیں۔اس طرح اعتراض تبھی صحیح ہو سکتا ہے، جب اعتراض کرنے والی کی وہی عمر ہو ، وہی صحت ہو۔یہ کیا کہ بڑی عمر اور کمزور صحت والی عورت سے وہ عورت مقابلہ کرنے کے لئے کھڑی ہو جائے ، جو چھوٹی عمر کی ہو اور جس کی صحت اچھی ہو۔اور کہے کہ میں کام کرتی ہوں اور وہ کام نہیں کرتی۔پھر یہ بھی غلط ہے کہ ہمارے گھر کی مستورات کام نہیں کرتیں۔جب ہم قادیان سے آئے ہیں تو ہمارے گھر میں ایک لنگر جاری تھا۔اڑھائی سو کے قریب افراد تھے اور ان اڑھائی سو افراد کے کھانے کا انتظام، جن میں میرے بھائی بہنیں بھتیجے سب شامل ہیں، سات آٹھ ماہ تک میری بڑی بیوی ام ناصر کے سپر درہا۔وہی سب کھانا پکواتی اور تقسیم کرتی تھیں۔باقی گھر کے لوگ اگر کسی چھوٹی موٹی بات میں مدد کر دیتے تو اور بات تھی۔ورنہ پکا پکا یا کھانا ہی ہمیشہ ان کے سامنے رکھا جاتا تھا۔پھر انہیں دنوں یہاں رتن باغ میں چودہ سو سے زیادہ مہاجر عورتیں ٹھہری ہوئی تھیں، ان کو کون کھلا تا تھا ؟ کیا لا ہور کی عورتیں ان کو آکر کھلاتی تھیں ؟ مہینوں سینکڑوں عورتیں یہاں پڑی رہیں ، سب عورتوں کی ہر طرح خدمت کی جاتی رہی۔یہ خدمت ہمارے گھر کی مستورات ہی کرتی تھیں اور یا پھر مہاجرات میں سے بعض عورتیں ان کی مدد کر دیتی تھیں۔پس یہ کہنا کہ ہمارے گھر کی عورتیں کام نہیں کرتیں ، غلط ہے۔باقی رہا یہ سوال کہ ہماری عورتیں موثر و غیرہ پر سواری کرتی ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ اگر سواری گھر میں ہوگی تو ضرور استعمال کی جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سواری استعمال کیا کرتے 32