تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 31
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 مئی 1948ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم فاقے آتے ہیں۔تم ساروں کے متعلق کوئی ایک قانون نہیں بنا سکتے۔ہاں اپنی اپنی حالت کے مطابق ہر شخص سادہ زندگی اختیار کرے گا۔دو وقت کا فاقہ کرنے والا ، جس نے پھٹا پرانا لباس پہنا ہے، دوسرے کو یہ نہیں کہ سکتا کہ وہ کیوں سیر ہو کر کھانا کھاتا ہے یا کیوں اس نے اچھے کپڑے پہنے ہوئے ہیں؟ ہم کہیں گے کہ ایک کی آمد زیادہ ہے، وہ اچھے کھانے کھاتا اور اچھے کپڑے پہنتا ہے اور دوسرے کی آمد کم ہے، اس لیے وہ فاقے کرتا ہے یا تن ڈھانکنے کے لیے اس کے پاس پھٹا پرانا لباس ہے۔لیکن قانون کی پابندی دونوں نے کی ہے۔یعنی ایک ہی کھانا کھایا ہے اور گوٹے کناری پر اپنا روپیہ تحریک کے بعد ضائع نہیں کیا۔غرض سادگی ایک نسبتی چیز ہے اور قربانی بھی ایک نسبتی چیز ہے۔پھر ہمارے لئے کیوں ایسا کرنا جائز نہیں ؟ اگر ہم چندہ دوسروں کی نسبت زیادہ رکھیں اور ہمارا میعار قربانی بھی دوسروں کی نسبت زیادہ بلند ہو۔اور پھر ہماری حالت ہر شخص سے اچھی ہو اور بعض سے خراب تو ہم پر اعتراض کیسا؟ بہر حال تمہیں دو میں سے ایک بات ضرور مانی ہوگی۔شتر مرغ کی طرح تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم اونٹ بھی ہیں اور مرغ بھی۔یا تو تمہیں اونٹ بننا پڑے گا یا مرغ۔یہ دونوں چیزیں ایک وقت میں اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔یا تو یہ فیصلہ کیا جائے کہ جماعت کے غریب سے غریب آدمی کی حالت کے برابر سب کو رہنا چاہئے۔تو ہم انشاء اللہ کسی سے پیچھے نہیں رہیں گے۔اور اگر یہ فیصلہ ہو کہ یہ نسبتی چیز ہے۔تو جو اپنے لئے قانون بناؤ گے، وہی ہمارے لئے ہونا چاہیے۔بہر حال ایک ہی قانون ہونا چاہیے۔یہ نہیں کہ کسی کے لئے کوئی قانون ہو اور کسی کے لئے کوئی قانون۔اگر جماعت یہ فیصلہ کرے کہ ہر امیر وغریب کو فاقہ سے رہنا چاہیے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔یقیناً اگر جماعت ایسا کرنا چاہئے تو گو یہ غیر طبعی بات ہوگی مگر ہوگی مفید۔دنیا میں ایسا کبھی نہیں ہوا، سوائے جنگ کے حالات کے۔جنگ کے دوران میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ اگر کسی کے پاس ایک من غلہ ہے تو ایک من غلہ لے آئے اور جس کے پاس ایک سیر غلہ ہے تو وہ ایک سیر غلہ لے آئے اور سب مل کر کھائیں۔مگر عام حالات میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا، نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایسا کیا ، نہ حضرت عیسی علیہ السلام نے ایسا کیا اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسا کیا۔پھر بھی جماعت اگر ایسا فیصلہ کر دے تو اس کے کئی پہلو نیک بھی ہو سکتے ہیں۔لیکن اگر یہ فیصلہ ہو کہ سادگی اور قربانی دونوں نسبتی چیزیں ہیں تو ہمارے خاندان کے افراد سے بھی نسبتی قربانی کا ہی مطالبہ ہو سکتا ہے۔اگر وہ اس سے زیادہ کریں، یہ ان کی خوش قسمتی ہوگی۔مثلاً جماعت سے میں نے مطالبہ کیا ہے کہ جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے، وہ 50 فیصدی چندہ دیں۔اب اگر کوئی 31