تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 340

خطبہ جمعہ فرموده 04 دسمبر 1953ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔آئینی طریقے استعمال کئے جائیں گے تو ہم کہیں گے، یہ آئینی سیاست ہے۔اور جب یہ جوڑ تو ڑ غیر آئینی طریقوں سے ہوں گے تو ہم اسے غیر آئینی سیاست کہیں گے۔لیکن منبع کے لحاظ سے وہ صرف فلسفہ ہوگایا صرف مذہب ہوگا۔غرض دوسرے لوگ کچھ کہیں، حقیقت یہ ہے کہ ہم دنیوی حکومت نہیں چاہتے۔ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہماری زندگیاں تبلیغ اور اشاعت اسلام میں لگ جائیں۔باقی یہ کہ کسی جگہ احمدی زیادہ ہو جائیں اور جمہوریت کے لحاظ سے وہ زیادہ نمائندگی کا حق رکھتے ہوں تو یہ ہماری تحریک کا حصہ نہیں۔یہ ایک اتفاقی حادثہ ہو گا۔ہماری دلچسپی صرف اس میں ہے کہ دنیا کے کونے کونے میں اسلام کی تبلیغ پھیل جائے اور پھر اسلام تمام ادیان پر غالب آجائے ، جس طرح کہ وہ قدیم ایام میں غالب تھا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔اور اسی کام کیلئے تحریک جدید کو جاری کیا گیا ہے اور یہی کام ہر مسلمان پر واجب قرار دیا گیا ہے۔پس یہ تحریک کسی خاص گروہ سے مختص نہیں بلکہ ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ اس میں حصہ ہے۔جو احمدی اس تحریک میں حصہ نہیں لے گا ، ہم اسے احمدیت اور اسلام میں کمزور سمجھیں گے۔کیونکہ جس شخص کے دل میں یہ خواہش نہیں کہ وہ اسلام کی خدمت اور احمدیت کی اشاعت کے لئے کچھ خرچ کرے، اس کا اسلام لا نا یا احمدیت قبول کرنا محض بریکار ہے۔میں نے جیسا کہ پہلے بھی بتایا ہے، پہلے دور والوں اور دوسرے دور والوں میں، میں نے فرق رکھا ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ سابقون الاولون ہیں۔19 سال کے بعد ان کے نام چھپوا کر لائبریریوں میں رکھے جائیں ، جماعتوں کے اندر پھیلائے جائیں، خودان کے پاس یادگار کے طور پر بھیجے جائیں۔تا وہ انہیں اپنی اپنی زندگی میں بطور یادگار اپنے پاس رکھیں اور اپنے بعد اپنی نسلوں کے لئے یادگار کے طور پر چھوڑ جائیں۔میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ پہلے لوگوں نے انتہائی قسم کی قربانی کی ہے۔مجھے معلوم ہے کہ جماعت کے بعض مردوں اور عورتوں نے اس تحریک میں اپنی پانچ پانچ چھ چھ ماہ کی آمد لکھوا دی تھی۔اور اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ تحریک پہلے محدود عرصہ کے لئے تھی اور انہوں نے خیال کیا کہ چلو اتنے سال ہم قربانی کر لیں۔اب اسے ہمیشہ کے لئے کر دیا گیا ہے۔پس میں سمجھتا ہوں کہ ان کے لئے اتنی قربانی کرنا، در حقیقت ایسا بوجھ ہے کہ اسے ہر شخص نہیں اٹھا سکتا۔ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ بغیر اولاد کے ہوں یا وہ اپنے اخراجات بہت کفایت سے کرتے ہوں، ان کو منتقی سمجھا جاسکتا ہے۔وہ اگر چاہیں تو اپنی قربانی کو اس معیار پر رکھیں۔لیکن باقی لوگوں کے لئے ، جنہوں نے پہلے سالوں میں بہت زیادہ قربانی کی ، میری تجویز یہ ہے کہ وہ اپنے 340