تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 339

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبه جمعه فرموده 04 دسمبر 1953ء ہے، جو عیسائیت کی ترقی کے لئے کام کر رہے ہیں۔یہ تمام صیغے ، چاہے وہ ڈاکٹر ہوں، نرسیں ہوں ،سکول ہوں، کالج ہوں ، سوال و جواب لکھانے والے ہوں یا سبق یاد کرانے والے ہوں، مثلاً مسیح کون تھا اور وہ کیوں آیا ؟ جیسے ہم نے دیہاتی مبلغین رکھے تھے لٹر پر تقسیم کرنے والے ہوں ، جن کا کام پمفلٹ تقسیم کرنا ہوتا ہے، ان کا مقابلہ صرف ہماری جماعت کر رہی ہے۔باقی سارے مسلمان حکومتوں ، بادشاہتوں اور وزارتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔صرف ہماری جماعت ہے، جس کی بادشاہت صرف اسلام ہے، جس کی حکومت صرف اسلام ہے، جس کی عزت صرف اسلام ہے۔تعجب کی بات ہے کہ وہ مسلمان، جو حکومتوں، بادشاہتوں اور وزارتوں کے متلاشی ہیں اور رات دن انہی کے پیچھے مارے مارے پھر رہے ہیں، ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ تم سیاسی انقلاب بر پا کرنا چاہتے ہو۔حالانکہ جہاں تک یہ سوال ذہنیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، ہر ایک شخص انقلاب بر پا کرنا چاہتا ہے۔کیا ایک مزدور نہیں چاہتا کہ اس کی حالت پہلے سے اچھی ہو؟ کیا اس خواہش اور جذبہ کی بنا پر اسے باغی قرار دیا جائے گا؟ کیا اسے حکومت کا تختہ الٹنے والا قرار دیا جائے گا؟ کیا ایک ڈسپنر نہیں چاہتا کہ اس کی تنخواہ بڑھ جائے اور ڈاکٹراس پر زیادہ بنتی نہ کرسکیں ؟ اس قسم کا ذہنی انقلاب ہر ایک شخص میں ہوتا ہے۔پس ہمارا یہ خواہش کرنا کہ اسلام کی تعلیم دنیا میں پھیلے اور تمام ادیان پر غالب آ جائے ، سیاسی انقلاب نہیں۔سیاسی انقلاب وہ ہوتا ہے، جس کے لئے سیاسی تراکیب استعمال کی جائیں۔پس جہاں تک ہماری یہ خواہش ہے کہ اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیم تمام دنیا پر غالب آ جائے، ہمیں اس کا انکار نہیں۔لیکن ایک ادنی عقل والا بھی اسے سیاست نہیں کہہ سکتا۔یہ ایک خالص مذہبی خواہش ہے۔یہ خواہش سیاسی تب بنتی ہے، جب اس کے حاصل کرنے کے لئے سیاسی جتھے بنائے جائیں، سیاسی پارٹیاں بنائی جائیں تا حکومت پر قبضہ کیا جائے ، تب اس کا نام سیاست ہوگا۔اس سے پہلے یہ صرف مذہب ہے۔پھر صرف مذہب ہی نہیں چاہتا کہ وہ دوسروں پر غالب ہو، فلسفہ بھی یہی چاہتا ہے۔جب کوئی افلسفہ پڑھتا ہے اور اقتصادی اور معاشی حالات کے ماتحت علم حاصل کرتا ہے تو وہ بھی یہی چاہتا ہے کہ ان میں سے اچھی باتوں کو دنیا میں جاری کیا جائے۔اسی خواہش کی بناء پر ہم اسے ایک فلسفی تو کہیں گے لیکن ایک انقلابی نہیں کہیں گے۔جس طرح اسلام کے متعلق اس قسم کی خواہش رکھنے والے کو ہم مذہبی کہیں گے، انقلابی نہیں کہیں گے۔اسی طرح فلسفیانہ تجربوں کے ماتحت اقتصادی اور معاشی تغیر کی خواہش رکھنے والے کو ہم صرف فلسفی کہیں گے۔لیکن جب اس کے لئے جوڑ تو ڑ شروع ہوں گے اور اس کے لئے 339