تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 341

خطبہ جمعہ فرمودہ 04 دسمبر 1953ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم معیار قربانی کو گرا دیں۔مگر یکدم گرانے سے چونکہ بجٹ کو نقصان پہنچے گا، اس لئے وہ یکدم نہ گرائیں بلکہ ہر سال دس، دس فی صدی کمی کرتے جائیں۔میرے نزدیک موجودہ آمدنوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ، اگر کوئی شخص اپنی ایک ماہ کی آمد کا پچاس فی صدی دے دیتا ہے تو یہ ایک اچھی قربانی ہے۔کیونکہ اس کے ساتھ دوسرے چندے بھی ہیں، جو فرضا دینے پڑتے ہیں۔پس اگر کوئی شخص اپنی ایک ماہ کی آمد کا نصف دے دیتا ہے۔مثلاً اس کی سور و پیہ ماہوار آمد ہے تو وہ پچاس روپے وعدہ لکھوا دے تو سمجھا جائے گا کہ اس نے اچھی قربانی کی ہے۔اور اگر وہ ایک ماہ کی پوری آمد یعنی سو کی سوروپے ہی بطور وعد ہ لکھوا دے تو ہم سمجھیں گے کہ اس نے تکلیف اٹھا کر قربانی کی ہے۔لیکن جنہوں نے پانچ پانچ ، چھ چھ ماہ کی آمد نیاں چندہ میں لکھوا دی ہیں ، وہ اگر اپنی قربانی کو آئندہ بھی اسی معیار پر رکھیں تو وہ گھر کے نظام کو بگاڑنے والے ہوں گے۔سوائے چند افراد کے کہ جن کے اخراجات محدود ہیں۔عام حالات میں یہ اجازت ہے بلکہ میں یہ پسند کروں گا کہ ایسے لوگ ہر سال دس فی صدی کے حساب سے اپنا چندہ کم کرتے جائیں ، یہاں تک کہ چندہ ایک ماہ کی آمد کے برابر ہو جائے تا اتنے عرصہ میں دور دوم کو ترقی حاصل ہو جائے اور چندہ کی مقدار بڑھ جائے۔پس ہر احمدی مرد اور ہر احمدی بالغ عورت کا فرض ہے کہ اس تحریک میں شامل ہو۔بلکہ بچوں میں بھی تحریک کی جائے اور رسمی طور پر انہیں اپنے ساتھ شامل کیا جائے۔مثلاً اپنے وعدہ کے ساتھ ان کی طرف سے بھی کچھ حصہ ڈال دیں، چاہے ایک پیسہ ہو ، دو پیسے ہوں یا ایک آنہ ہو۔اس سے ان کے دلوں میں تحریک ہوگی۔بلکہ بجائے بچہ کی طرف سے خود وعدہ لکھوانے کے اسے کہو کہ وہ خود وعدہ لکھوائے۔اس سے اس کے اندر یہ احساس پیدا ہو گا کہ میں چندہ دے رہا ہوں۔بعض لوگ بچوں کی طرف سے چندہ لکھوا دیتے ہیں لیکن انہیں بتاتے نہیں۔اس سے پورا فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔بچے کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ سوال کرتا ہے۔جب تم اس سے کہو گے کہ جاؤ تم اپنی طرف سے چندہ لکھواؤ تو وہ پوچھے گا، چندہ کیا ہوتا ہے؟ اور جب تم چندہ کی تشریح کرو گے تو وہ پوچھے گا ، یہ چندہ کیوں ہے؟ پھر تم اس کے سامنے اسلام کی مشکلات اور اس کی خوبیاں بیان کرو گے۔پس بچہ کے اندر اللہ تعالیٰ نے یہ مادہ رکھا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سوال کرتا ہے۔اگر تم ایسا کرو گے تو ان کے اندر نئی روح پیدا ہوگی اور بچپن سے ہی ان کے اندر اسلام کی خدمت کی رغبت پیدا ہوگی۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے، مغربی پاکستان کے لئے وعدوں کی آخری تاریخ 15 فروری ہوگی اور مشرقی پاکستان کے لئے میں آخر مارچ کی میعاد مقرر کرتا ہوں۔ایسے غیر ممالک کے لئے، جن میں ہندوستانی بکثرت آباد ہیں، حسب دستور آخری اپریل تک کی میعاد ہے۔اور جن ممالک میں ہندوستانی 341