تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 336

خطبہ جمعہ فرموده 04 دسمبر 1953ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم غلام نے کہا بادشاہ سلامت! آپ نے ٹوپی میرے ہاتھ میں دی تھی اور کہا تھا کہ تمہارے نزدیک جو بچہ خوبصورت ہے، یہ ٹوپی اسے پہنا دو۔اور مجھے یہی بچہ سب سے زیادہ خوبصورت نظر آتا ہے۔اس واقعہ سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تعلق کی وجہ سے بھی کسی چیز میں حسن پیدا ہو جاتا ہے۔حسن دو قسم کے ہوتے ہیں۔1۔ذاتی 2۔اضافی ایک حسن تو ایک پینٹر اور نقاش کے فقط نگاہ میں ہوتا ہے۔وہ ایک چیز کو ایسا حسن دینا چاہتا ہے کہ دنیا کے اکثر افراد سے حسین سمجھ لیں۔لیکن ایک حسن وہ ہے، جو تعلق کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔مثلاً خاوند کے نزدیک سب سے زیادہ خوبصورت بیوی، اس کی اپنی بیوی ہوگی۔اگر یہ جھگڑا چل پڑے کہ فلاں کی بیوی خوبصورت ہے اور میری بدصورت ہے تو دنیا سے امن اور تقوی اٹھ جائے۔اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت ایسی بنائی ہے کہ ایک حسن اس کی نظر میں اس کے تعلق کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور اس سے دنیا کا امن قائم رہتا ہے۔پس بیوی، جو خاوند کی خدمت کرتی ہے، اس کے گھر کو سنبھالتی ہے، اس کے بچہ کی ماں ہوتی ہے ، وہی اس کی نگاہ میں خوبصورت ہوتی ہے۔خاوند مصوروں کے نقطہ خیال کو نہیں دیکھتا، وہ فطرت کو دیکھتا ہے اور فطرت اپنی بیوی کو ہی حسین دکھاتی ہے۔پس حسن دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک ذاتی اور دوسرا اضافی۔یعنی وہ حسن ، جو تعلق کی وجہ سے نظر آجاتا ہے۔مثلاً ایک بچہ ہو ، وہ چاہے کتنا ہی بدصورت ہو ، اس کی ماں اس سے پیار کرتی ہے اور کہتی ہے، واری جاؤں صدقے جاؤں، میں تیرے لیے اپنی جان قربان کر دوں۔حالانکہ دوسرے لوگوں کو اسے دیکھ کر بعض دفعہ گھن آجاتی ہے۔ایک بچہ رورہا ہوتا ہے، دوسرے لوگ چاہتے ہیں کہ اس کا سر پھاڑ دیں لیکن اس کی ماں یہی کہتی ہے، واری جاؤں ،صدقے جاؤں، آؤ میں تمہیں فلاں چیز دوں، فلاں چیز دوں۔یہ حسن کیا ہے؟ یہ حسن اضافی ہے۔یعنی اپنا بچہ ہونے کے احساس نے اسے خوبصورت کر کے دکھا دیا۔زلزے کے ایام میں، جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام عارضی طور پر باغ میں جا کر ٹھہرے تو اتفاقأمولوی عبدالکریم صاحب کی جو جھونپڑی بنائی گئی ، وہ پرافتخار احمد صاحب مرحوم کی جھونپڑی کے ساتھ تھی۔اتفاق کی بات ہے کہ مولوی عبد الکریم صاحب اور پیر افتخار احمد صاحب شہر میں بھی قریب قریب رہتے تھے۔مولوی عبد الکریم صاحب مسجد مبارک کے اوپر والے کمروں میں رہتے تھے اور مسجد کے نیچے ایک، دو کوٹھڑیاں تھیں، جن میں پیر افتخار احمد صاحب رہتے تھے۔لیکن بہر حال وہاں کچھ نہ کچھ فاصلہ تھا۔لیکن باغ 336