تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 335
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرموده 04 دسمبر 1953ء ہر فرد کی زندگی کا سب سے اہم کام تبلیغ واشاعت اسلام ہونا چاہیے خطبہ جمعہ فرمودہ 04 دسمبر 1953ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔گزشتہ جمعہ میں، میں نے تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان کیا تھا۔اس وقت میں نے وقت کی تعیین نہیں کی تھی کہ مغربی اور مشرقی پاکستان کے وعدے کس تاریخ تک مرکز میں آجانے چاہیں؟ آج میں عارضی طور پر مغربی پاکستان کے لئے 15 فروری کی تاریخ مقرر کرتا ہوں اور مشرقی پاکستان کے لئے آخر مارچ کی تاریخ مقرر کرتا ہوں۔یعنی ان تاریخوں تک ان علاقوں سے وعدے مرکز میں پہنچ جانے چاہیں۔اگر بعد میں صیغہ کی سفارش کے مطابق اس میعاد کو بڑھانا پڑا تو بڑھادیا جائے گا۔میں جیسا کہ پچھلے سال کہہ چکا ہوں اور اس سال بھی میں نے کہا ہے، تحریک اپنے نئے نام کی وجہ سے کوئی نئی چیز نہیں بن جاتی بلکہ یہ وہی چیز ہے، جس کے متعلق قرآن کریم نے ہر مسلمان کو توجہ دلائی ہے اور جو کام کرنا، خدا تعالیٰ نے ہر مسلمان پر فرض قرار دیا ہے۔قرآن کریم نے امت محمدیہ کا یہ وصف بیان کیا ہے کہ اس کا ہر فرد دوسرے لوگوں کو خیر کی طرف بلاتا ہے۔اور اس میں شبہ ہی کیا ہے کہ سب سے بڑی خیر قرآن کریم اور اسلام ہے۔لوگ تو محض اپنے تعلق کی وجہ سے ایک ناقص چیز کو بھی اچھا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔پھر کتنا افسوس ہوگا مسلمانوں پر کہ وہ اپنے تعلق کی بناء پر اچھی چیز کو بھی اچھانہ سمجھیں۔ایک قصہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے دربار کے ایک حبشی غلام کو ایک ٹوپی دی اور اسے ہدایت کی کہ تمہارے خیال میں جو سب سے زیادہ خوبصورت بچہ ہو، یہ ٹوپی اس کے سر پر رکھ دو۔وہ غلام سیدھا اپنے بچہ کے پاس گیا اور اس نے وہ ٹوپی اس کے سر پر رکھ دی۔اس پر سب لوگ ہنس پڑے۔کیونکہ اس کا بیٹا کالے رنگ کا تھا، اس کی شکل بہت بدنما تھی، اس کی آنکھیں پھٹی پھٹی تھیں ، بال چھوٹے اور کنڈلوں والے تھے۔دوسرے بچے سفید رنگ کے تھے، ان کے نقش نازک اور خوبصورت تھے۔لیکن اس غلام نے ٹوپی پہنائی تو اپنے بدشکل بچہ کو۔بادشاہ نے کہا میں نے تو تمہیں کہا تھا کہ یہ ٹوپی اس بچہ کو پہناؤ ، جو تمہارے نزدیک سب سے زیادہ خوبصورت ہو۔مگر تم نے یہ کیا کیا کہ ایک بد شکل کو یہ ٹوپی پہنا دی؟ اس 335