تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 337
خطبہ جمعہ فرموده 04 دسمبر 1953ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم میں جا کر فاصلہ بالکل نہ رہا۔پیر صاحب کے بچے عام طور پر زیادہ روتے تھے۔لیکن پیر افتخار احمد صاحب بڑے مزے سے انہیں کھلاتے رہتے تھے۔ہمارے ملک کے عام دستور کے خلاف پیر صاحب بچے خود کھلایا کرتے تھے اور ان کی بیوی بچوں کی طرف بہت کم توجہ دیا کرتی تھیں۔ایک دفعہ پیر صاحب کے بچے رور ہے تھے اور پیر صاحب انہیں تھپکیاں دے کر چپ کرا رہے تھے کہ مولوی عبد الکریم صاحب نے کہا، پیر صاحب میرا تو جی چاہتا ہے کہ اس بچہ کو باپ سے چھین کر زمین پر بیچ دوں۔یہ اتنا شور مچاتا ہے کہ میرا خون کھولنے لگ جاتا ہے اور میری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ اس شور کو کس طرح برداشت کر لیتے ہیں؟ پیر صاحب نے کہا میری سمجھ میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ بچہ میرا ہے، میں اسے کھلا رہا ہوں اور مجھے تو کوئی غصہ نہیں آرہا لیکن آپ کو غصہ کیوں آرہا ہے؟ اب وہ شور بھی انہیں اچھا لگتا تھا۔کیونکہ وہ ان کا اپنا بچہ تھا۔غرض اپنی چیز کا بھی ایک حسن ہوتا ہے۔اور یہ حسن اضافی کہلاتا ہے۔یعنی یہ حسن دوسروں کو نظر آئے یا نہ آئے تعلق رکھنے والوں کو نظر آتا ہے۔اب ایک مسلمان کے لئے یہ کتنی خوشی کی بات ہے کہ اس کے مذہب کا حسن اضافی بھی ہے اور حسن حقیقی بھی ہے۔یعنی وہ چیز دوسروں کو بھی اچھی نظر آتی ہے اور پھر وہ حسن اضافی بھی رکھتی ہے۔یعنی ہر مسلمان کو اپنے تعلق کی وجہ سے وہ حسین نظر آنی چاہئے۔گویا اس کے لئے کسی جد و جہد اور کوشش کی ضرورت نہیں۔وہ چاروں طرف سے مذہب کے حسن میں لپٹا ہوا ہے۔اگر غیر مذاہب والے اپنے مذہب کے لئے ، جو اپنے اندر خرابی رکھتا ہے اور اپنی ذات میں خوبصورت نہیں، صرف حسن اضافی کی وجہ سے قربانی کرتے ہیں تو کتنے تعجب کی بات ہوگی کہ مسلمان ، جس کا مذہب حسن اضافی بھی رکھتا ہے اور حسن ذاتی بھی ، وہ اس کے لئے قربانی نہ کرے؟ ایک شخص کی جیب میں رنگارنگ کے پتھر پڑے ہوتے ہیں اور وہ ان کو اپنا ہونے کی وجہ سے بچانا چاہتا ہے۔جیسے بچے ہوتے ہیں ، وہ خوبصورت پتھروں کی وجہ سے آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔اور ایک شخص کی جیب میں ہیرے ہوتے ہیں، ان میں حسن ذاتی بھی ہے۔کیونکہ ہیرے ہر ایک کو اچھے لگتے ہیں اور حسن اضافی بھی ہوتا ہے۔یعنی اپنی ذات میں بھی وہ قیمتی ہوتے ہیں اور جس کی ملکیت میں وہ ہوں، اس کے لئے وہ حسن اضافی بھی رکھتے ہیں۔وہ یونہی پڑے ہوں تب بھی وہ قیمتی ہیں اور کسی کے پاس ہوں تب بھی قیمتی ہیں۔اب کیا کوئی عقلمند انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ اول الذکر تو پتھروں کی حفاظت کرے گا لیکن دوسرا شخص ہیروں کی حفاظت نہیں کرے گا ؟ پس مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے ایسے مقام پر کھڑا کیا ہے کہ وہ مقام دوسروں کے مقام سے نرالا ہے۔علاوہ اس کے کہ اسلام اس کا اپنا مذہب ہے اور اس کے لئے حسن اضافی رکھتا۔اپنی ذات میں بھی ایک حسین چیز ہے اور دوسروں کے لئے بھی اس کا حسن اپنے اندر کشش رکھتا ہے۔337