تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 332
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 نومبر 1953ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اور اگر مکی کی قیمت 1500 روپے اس رقم میں شامل کر دئیے جائیں تو کل آمد 4500 روپے کی ہوئی اور زمین صرف تین ایکڑ تھی۔یہ معمولی آمد ہے، جو دوسرے ملکوں میں پیدا کی جاتی ہے۔پس بجائے مہنگا انتاج فروخت کرنے کے اگر یہ کوشش کرو کہ تمہیں اچھے پیج مل جائیں ، پھر زمین میں اچھے بل دیئے جائیں اور پانی دیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔لیکن اگر قیمت کا اندازہ پہلے ہی 50 روپے فی من لگالیا جائے تو زمیندار کو فصل زیادہ کرنے کی کوشش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ حالانکہ اتنی زیادہ قیمت ہر سال نہیں ملتی۔ہر سال جو حالات ہوتے ہیں، ان کو مد نظر رکھا جائے تو قیمت یہی ہوگی۔بہر حال اگر کسی ملک میں کسی سال غلہ کم ہوتا ہے تو وہ تکلیف اٹھاتا ہے اور اگلے سال ضرور فصل زیادہ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔مگر حکومتی معیار پر یہ بات کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔اس میں زمیندار کا تعاون لازمی ہے۔اس کے تعاون کے بغیر حکومت کی سب تدبیر پیچ جاتی ہے۔دیکھ لو، اس دفعہ امریکہ سے غلہ منگوایا گیا۔لیکن گورنمنٹ کے تمام افسر پیداوار زیادہ کرنے کے لئے زور لگا رہے ہیں۔اور جب ملک میں غلہ بڑھ جائے گا اور باہر سے غلہ کم آئے گا تو اس کی قیمت گر جائے گی۔پچھلی جنگ کے بعد گندم کی قیمت سوار و پیہ فی من تک پہنچ گئی تھی۔ایک دفعہ لائل پور کے ایک خوشحال زمیندار قادیان آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ میری سر سکندر حیات صاحب کے پاس سفارش کریں۔(وہ ان دنوں ریو نیومنسٹر تھے۔) میں اس بات کے لئے تیار ہوں کہ حکومت مجھ سے ساری گندم لے جائے لیکن گرفتار نہ کرے۔اس سال گندم کی قیمت اتنی کم ہے کہ میں ریو نیوس را ادا نہیں کر سکتا۔پچھلے سال زیورات بیچ کر میں نے مالیہ ادا کیا تھا۔اس سال زیورات بھی نہیں ہیں، مجھے قید ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ میں سخت کانگریسی رہا ہوں۔اس وقت مجھے آپ کے سوا کوئی نظر نہیں آیا ، جس کے سامنے دست سوال دراز کروں۔آپ اتنی مہربانی کریں کہ ان کے پاس میری یہ سفارش کر دیں کہ حکومت ساری گندم لے لے اور باقی مالیہ مجھ پر قرض رکھے۔کیونکہ میں اس کے ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔یہ بات بہت ہی تکلیف دہ تھی۔میں نے سردار سکندر حیات صاحب کو خط لکھا کہ اگر یہ واقعات صحیح ہیں تو ہر شریف آدمی کا دل رحم سے بھر جائے گا۔آپ اس واقعہ کو دیکھ لیں، اگر یہی حالات ہوں تو محض اس لئے کہ وہ کسی وقت کانگریسی تھا یا اب کانگریسی ہے، اسے مارنے سے کوئی فائدہ نہیں۔وہ آدمی شریف الطبع تھے، انہوں نے چوتھے یا پانچویں دن اس کا جواب لکھوایا۔انہوں نے خود تو خط نہ لکھا بلکہ میاں محمد ممتاز صاحب دولتانہ کے والد محروم سے لکھوایا۔جن کے مجھ سے بھی دوستانہ تعلقات تھے اور سردار سکندرحیات صاحب سے بھی 332