تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 331
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 نومبر 1953ء یہی فصل یورپ اور امریکہ میں بھی ہوتی ہے لیکن وہ لوگ ہم سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔جب جاپان میں پاکستانی وفد گیا تو اگر چہ اس میں کسی حد تک مبالغہ بھی تھا لیکن اس وفد کی یہ رپورٹ تھی کہ وہاں فی خاندان تین ایکڑ زمین ہوتی ہے لیکن اس کی آمد 6000 روپے سالا نہ ہوتی ہے۔یہ قیمت ہمارے ملک کے لحاظ سے بہت زیادہ ہے۔یہ آمد ہم سے 20 گنے زیادہ ہے۔ہمارے ملک میں جس شخص کے پاس ایک مربع زمین ہوتی ہے اور اس کو پانی وغیرہ خوب ملتا ہے تو اسے خوشحال سمجھا جاتا ہے۔ایک مربع کو تین ایکڑ زمین سے ایک اور آٹھ کی نسبت ہے۔جاپان کی آمد میں اور ہمارے ملک کی آمد میں ہیں گنے کا فرق ہے۔یہ فرق اسی وجہ سے ہے کہ انہوں نے سوچا، غور کیا، محنت کی اور اپنے حالات کو درست کرنے کے بعد ایسی تدابیر نکالیں، جس سے ان کی آمد ہم سے کئی گنا زیادہ بڑھ گئی۔جو لوگ 55 روپیہ فی من کے حساب سے کپاس کی آمد کا اندازہ لگاتے ہیں، انہیں آمد بڑھانے کے متعلق سوچنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔جب وہ کپاس کی قیمت سات آٹھ روپیہ فی من لگا ئیں گے اور گندم کی قیمت پانچ ، چھ رو پیرنی من لگائیں گے تو انہیں اپنی آمد بڑھانے کی فکر ہوگی اور اس سے یقینا انہیں فائدہ ہوگا۔حال ہی میں، میں نے مکئی کے متعلق تحقیقات کی ہے۔میں امریکہ سے مکئی کا پیج منگوانا چاہتا تھا۔ہمارے مبلغ ہو۔این او کے ماہرین زراعت کو ملے تو انہیں معلوم ہوا کہ اس زمانہ میں ایسے بیج بھی ایجاد ہوئے ہیں، جن سے 50 من سے 100 من تک فی ایکڑ پیداوار ہوتی ہے۔اب تم سمجھ لو کہ ہماری آمد کو ان کی آمد سے کیا نسبت ہے؟ یہاں کی کی پیداوار دس من سے بیس من تک ہے۔اچھے اچھے علاقوں میں 30 35 من فی ایکڑ ہے۔گویا تمہاری اونی پیداوار یعنی دس من کے مقابلہ میں ان کی پیداوار 50 من ہے۔اور تمہاری اعلیٰ پیداوار 20 من کے مقابلہ میں ان کی پیداوار 100 من ہے۔اب تم سمجھ لو کہ اگر ایک شخص کے پاس 14 ایکڑ زمین ہو اور وہ اس میں سے 12 یکٹر میں مکی بولے تو اسے سومن فی ایکڑ کے حساب سے دو سو من مکی حاصل ہو گی۔اب اگر یکی کی قیمت 5 روپے فی من بھی فرض کر لی جائے تو تین سو من مکی سے اسے 1500 روپے مل جائیں گے اور اس کے پاس دوا یکٹر زمین پھر بھی رہ جائے گی۔فرض کر لو وہ پھر ایک ایکٹر میں گنا بوتا ہے، اب گڑ کے لحاظ سے مدر اس سے ماریشس تک الگ الگ نسبتیں ہیں۔بعض ملکوں میں تین ، چار سو من بھی گڑ حاصل ہو جاتا ہے۔بلکہ گنے کے حساب سے تو یہاں تک ترقی کی گئی ہے کہ ایک دفعہ کا بویا ہوا گنا، گیارہ گیارہ سال تک کام آتا ہے۔اب اگر 300 من گرفی ایکٹر فرض کر لیا جائے تو 12 ایکڑ سے 600 من گڑ میسر آ جائے گا۔اگر گڑ کی پرانی قیمت بھی لگا و یعنی پانچ روپے فی من بھی لگالو تو اس کی آمد 3000 روپے کی ہوگی۔331