تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 274

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 اپریل 1952ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم مقدار میں بڑھ جائے تب بھی دنیا کو فتح کرنے کا ارادہ رکھنے والی قوم کا یہ بجٹ ، ایک جنسی والی بات ہوگی۔فرض کرو تم نے آٹھ آنے فی روپیہ چندہ مقرر کر دیا اور لوگوں نے اس حساب سے چندہ بھی دے دیا تو بجٹ چھ گنا بڑھ جائے گا اور اس طرح ہمیں 48 لاکھ روپیہ آ جائے گا۔لیکن کیا کسی کے ذہن میں بھی یہ چیز آسکتی ہے کہ 48لاکھ روپیہ سے دنیا فتح ہو جائے گی ؟ بڑے بڑے شہروں کی میونسپلیوں کی سالانہ آمد نہیں بھی 48 لاکھ روپیہ سے زیادہ ہوتی ہیں۔کلکتہ اور بمبئی کی میونسپلٹیوں کی سالانہ آمد نہیں ڈیڑھ کروڑ روپیہ تک ہیں۔لیکن وہ اس ڈیڑھ کروڑ روپیہ سے شہر کا پاخانہ بھی نہیں اٹھا سکتیں۔پھر تم 48لاکھ روپیہ میں دلوں کا گند کیسے اٹھا سکتے ہو؟ صحیح طریق یہی ہے کہ پہلے تم اپنے بجٹ کو دس لاکھ تک لے جاؤ ، پھر تم اپنے بجٹ کو پچاس لاکھ تک لے جاؤ، پھر تم اپنے بجٹ کو ایک کروڑ تک لے جاؤ، پھر تم اپنے بجٹ کو دس کروڑ تک بنادو۔غرض جتنی دنیا ہے۔اس کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہمیں روپے بھی چاہیں۔زیادہ نہیں تو دنیا کی آبادی دوارب ہے، اگر اتنی مقدار میں ہی روپیہ لیا جائے تو کیا 8 آنے فی روپیہ چندہ لگانے سے ہمیں دوارب روپیل جائے گا؟ پس تبلیغ ہی ایک طبعی ذریعہ ہے، جس کے ذریعہ ہم اپنے خسارے کو پورا کر سکتے ہیں۔تم چندہ میں زیادتی کر کے کمزورں کی روح کو توڑ سکتے ہو تم مخلصین کے کاروبار تباہ کر سکتے ہو لیکن اپنے کام کو ترقی نہیں دے سکتے۔تم اپنے کام کو بھی ترقی دے سکو گے، جب ضرورتوں کے مطابق جماعت بڑھے بھی۔پھر دوسری چیز یہ ہے کہ تم اپنے بچوں کی صحیح رنگ میں تربیت کرو، انہیں تعلیم دلواؤ ، ان کی ترقی کی فکر کرو۔یہ چیز تبلیغ سے دوسرے نمبر پر تمہارے خزانہ کو بھرنے والی ہے۔میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں ، ورنہ ان کی حیثیت پنچائتوں کی سی ہو جائے گی۔اور پنچائتیں چوڑھوں اور سانسیوں کی بھی ہوتی ہیں۔چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی آمد میں بارہ بارہ، تیرہ تیرہ لاکھ روپیہ سالانہ کی ہوتی ہیں۔مالیر کوٹلہ کی ریاست ہے۔یہ ریاست پندرہ، ہیں میل کے قریب رقبہ کی ہے لیکن اس کا سالانہ بجٹ پندرہ لاکھ روپیہ کا ہے۔بہاولپور ریاست کا سالانہ بجٹ پونے تین کروڑ روپیہ کا ہے۔خیر پور ریاست کا سالانہ بجٹ بھی پچاس ساٹھ لاکھ روپیہ کا ہے۔مگر کیا تم سمجھتے ہو کہ دنیا کی ترقی اور اصلاح کے مقابلہ میں ان ریاستوں کے یہ بجٹ کوئی حیثیت رکھتے ہیں؟ ان کی حیثیت کچھ بھی تو نہیں۔لیکن تمہارا بجٹ تحریک جدید اور صدرانجمن احمدیہ کو ملا کر بارہ لاکھ روپیہ کا ہے۔یہ تو کوئی چیز بھی نہیں۔اس سے کوئی کام نہیں ہو سکتا ہے۔یہ بحث اس صورت میں کارآمد ہوسکتا ہے کہ ہر سال جماعت اس قدر بڑھ جائے کہ بجٹ میں معتد بہ فرق پڑ جائے۔یعنی وہ بارہ لاکھ سے سترہ لاکھ بن جائے ، 274