تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 273
ٹریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اپریل 1952ء ہے اور نہ وہ احمدی بن کر زندہ رہے گا اور نہ احمدی بن کر مرے گا۔وہ شخص دھو کہ میں ہے، وہ احمدیت کو سمجھتا نہیں۔اسے صرف وہم ہو گیا ہے کہ وہ احمدی ہے۔ہماری اصل غرض احمدیت کا پھیلانا ہے اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے، جب ہم مجنونانہ تبلیغ کریں۔اگر ہماری جماعت ابتداء میں 25-30 ہزار سالانہ کی تعداد میں بڑھنا شروع کر دے تو لازمی طور پر دو، تین لاکھ روپیہ کا بجٹ ابتداء میں بڑھے گا۔اور پھر اسی طرح جب جماعت بڑھے گی تو بجٹ اور زیادہ ترقی کر جائے گا۔اب تو جماعت کے افراد اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے ہیں اور اس بات کا نام ترقی رکھ لیتے ہیں کہ دشمن انہیں ان کے جتھے میں مارتا نہیں۔حالانکہ اس سے احمدیت کا کوئی واسطہ نہیں۔اس سے اتر کر یہ چیز ہے کہ ست افراد کو بیدار کیا جائے اور ان سے بقائے وصول کئے جائیں۔عام اندازے کے مطابق ہماری جماعت کی تعداد پاکستان میں اڑھائی لاکھ ہے۔اور اگر ہم اوسط چندہ 8 روپے سالانہ فی فرد بھی رکھیں تو عام اندازے کے مطابق ہمارا سالانہ چندہ ہیں لاکھ روپیہ بنتا ہے۔لیکن صدرا انجمن احمدیہ کا چندہ صرف آٹھ لاکھ روپیہ سالانہ ہے اور اگر اس میں تحریک جدید کا چندہ بھی ملالیا جائے تو یہ بارہ لاکھ روپیہ سالانہ بن جاتا ہے۔گویا عام اندازے کے مطابق بھی ہما را چندہ آٹھ لاکھ روپیہ کم رہتا ہے۔اگر ہم کمزوروں کو بیدار کریں اور ان سے چار لاکھ روپیہ بھی وصول کر لیں تو صدرانجمن احمدیہ کو تین لاکھ روپیہ کی بچت ہو جاتی ہے۔اور اگر اس کا چوتھا حصہ بھی تحریک جدید کول جائے تو اس کا 82 ہزار کا خسارہ نفع میں بدل جاتا ہے۔گویا اس طرح صدر انجمن احمدیہ کا پونے دولاکھ روپیہ کا خسارہ سوالاکھ روپیہ کے نفع میں بدل جاتا ہے۔اور تحریک جدید کا اس ہزار روپیہ کا خسارہ میں ہزار روپیہ کے نفع میں بدل جاتا ہے۔گویا ہم اس آٹھ لاکھ روپیہ میں سے۔۔۔لاکھ روپیہ بھی وصول کریں اور پھر تبلیغ کے ذریعہ جماعت کو بڑھا ئیں تو صدرانجمن احمدیہ کا چار، پانچ لاکھ روپیہ اور تحریک جدید کو ڈیڑھ ، دولاکھ روپیہ کی آمد ہو جاتی ہے۔اور قرض بھی آسانی سے اتارا جاسکتا ہے۔بلکہ کچھ رقم ریز روفنڈ میں بھی رکھی جاسکتی ہے۔اور اس طرح تبلیغ کو پھیلایا جاسکتا ہے۔بجٹ کمیٹی کی طرف سے کی بھی تھی کہ چندے بڑھا دیئے جائیں کر دیا تھا۔کیونکہ اس کا صرف یہ اثر ہوتا کہ جو شخلصین پہلے ہی چندے دے رہے ہیں ، وہی اور زیادہ بار کے نیچے آجاتے۔16 آنہ میں سے پہلے ہی چندہ عام کے ذریعہ ایک آنہ لے لیتے ہو اور وصیت کے ذریعہ ڈیڑھ آنہ لے لیتے ہو۔اور اگر ہم اس طرح کریں کہ 16 آنہ میں سے نصف بطور چندہ لے لیں تو ہم چھ، سات آنے اور چندہ لے سکتے ہیں۔فرض کروہ مخلصین چندہ بڑھا بھی دیں تو موجودہ بجٹ چھ گنا بڑھ جائے گا۔اور اگر ہمارا بجٹ اتنی 273