تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 262

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جنوری 1952ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم پہلے سے وعدے کرتے آئے ہیں۔بلکہ آپ لوگوں کا فرض ہے کہ ہر احمدی سے، خواہ وہ بچہ ہو ، جوان ہو یا بوڑھا ہو یا مرد ہو یا عورت ہو، امیر ہو یا غریب اور پھر خواہ کسی حیثیت کا ہو، اس کی حیثیت کے مطابق تحریک جدید کے وعدے لے کر بھجوائیں۔اور ہر ایک پر واضح کر دیں کہ اسلام کی اشاعت اور غیر مسلموں کو اسلام میں داخل ہونے کے لئے تبلیغ کرنا ہی ایسے کام ہیں، جن کی وجہ سے ہم اسلام کو دوسرے ادیان پر غالب کر سکتے ہیں۔نہ کفر و اسلام کی جنگ نے قیامت تک ختم ہونا ہے اور نہ قربانیوں کا سلسلہ بند ہوسکتا ہے۔یہی جہاد ہے، جو مختلف رنگوں میں ہمیشہ کیلئے مسلمانوں پر فرض ہے۔" ایک احمدی کے عقیدہ کے مطابق جہاد کی جو شرائط پہلے پائی جاتی تھیں، وہ شرائط اب بھی پائی جاتی ہیں۔اس وقت بھی امن کی ضرورت تھی اور اب بھی امن کی ضرورت ہے۔جس جہاد کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش کیا تھا اور جو جہاد ہم کر رہے ہیں ، وہ کسی وقت بھی بہٹ نہیں سکتا۔ہر وقت نماز ، جہاداور ذکر الہی ضروری ہیں۔جہاد کے معنی ہیں، اپنے نفس کی اصلاح کی کوشش کرنا اور غیر مسلموں کو اسلام میں لانے کے لئے تبلیغ کرنا۔اور روز وشب جماعت سے ہمارا یہی خطاب ہوتا ہے۔ہم انہیں یہی کہتے ہیں کہ تم دوسرے لوگوں کو تبلیغ کے ذریعہ مسلمان بناؤ۔ہمارا جہاد وہ ہے، جو نماز کی طرح روزانہ ہو رہا ہے۔اور جو احدی اس جہاد میں حصہ لیں گے، وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم جہاد کر رہے ہیں۔لیکن جو لوگ اس جہاد میں حصہ نہیں لیں گے، ہم ان متعلق فتوے تو نہیں دیتے لیکن جس طرح نماز نہ پڑھنے والا سچا مسلمان نہیں ہوسکتا، اسی طرح اسلام کی اشاعت کے لئے قربانی نہ کرنے والا بھی سچا مسلمان یا سچا احمدی نہیں کہلا سکتا۔لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے مقدمات میں کس طرح اپنی جانیں لڑا دیتے ہیں۔اب کفر و اسلام کے مقدمہ میں جو حصہ نہیں لیتا اور اسے نقل سمجھتا ہے، وہ کیسے سچا مسلمان کہلا سکتا ہے؟ تحریک جدید فعلی اس لئے ہے کہ ہم اس میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے کسی کو سزا نہیں دیتے۔لیکن فرض اس لحاظ سے ہے کہ اگر تمہیں احمدیت سے سچی محبت ہے تو تحریک جدید میں حصہ لینا تمہارے لئے ضروری ہے۔جب ماں بچہ کے لئے رات کو جاگتی ہے تو کون کہتا ہے کہ اس کے لئے رات کو جاگنا فرض ہے؟ بچہ کی خاطر رات کو جا گنا فرض نہیں نفل ہے۔لیکن اسے رات کو جاگنے سے کون روک سکتا ہے؟ جس سے محبت ہوتی ہے، اس کی خاطر ہر شخص قربانی کرتا ہے اور یہ نہیں کہتا کہ ایسا کرنا فرض نہیں نفل ہے۔اسی طرح جو شخص اسلام اور احمدیت سے سچی محبت رکھتا ہے، وہ یہ نہیں کہے گا کہ ان کی اشاعت کی خاطر قربانی کرنا فرض نہیں۔بلکہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے قربانی کرنا ، اسے فرض سے بھی زیادہ پیارا 262