تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 263

تحریک جدید- ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 جنوری 1952ء لگے گا۔کیونکہ وہ سمجھے گا کہ ایسا کرنے سے اسلام کو دوبارہ شوکت وعظمت حاصل ہو جائے گی۔بلکہ جب تبلیغ جہاد کا ایک حصہ ہے تو اس میں حصہ لینا فرض ہی کہلانے کا مستحق ہے۔پس اس خطبہ کے ذریعے میں جماعت کو اس کے فرائض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اب دوست صرف یہ نہ کریں کہ جولوگ اس میں حصہ لیتے ہیں، ان سے وعدے لے کر بھجوا دیے جائیں۔بلکہ ہر بالغ احمدی کو تحریک جدید میں شامل کریں۔بلکہ نابالغ بچوں کو بھی تحریک جدید میں شامل کر سکتے ہیں۔تا انہیں احساس رہے کہ انہوں نے بڑے ہو کر اسلام کی اشاعت میں حصہ لینا ہے۔ہمارے گھروں میں نا بالغ بچوں کی طرف سے والدین حصہ لیتے ہیں اور انہیں بتا دیتے ہیں کہ تمہارا تحریک جدید کا وعدہ اس قدر ہے۔تا انہیں احساس ہو کہ وہ بڑے ہو کر اس میں حصہ لیں۔پس تم اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے بھی حصہ لے سکتے ہو۔انہیں بتاؤ کہ تمہاری کامیابی کا طریق یہی ہے کہ تمہیں اشاعت اسلام کے کاموں میں رغبت ہو اور بڑے ہو کر اس کام کو پورا کرنے کی کوشش کرو۔پس اب جبکہ بہت تھوڑ ا وقت باقی ہے، ( میں نے پندرہ فروری آخری تاریخ مقرر کی تھی۔میں پھر جماعتوں کو توجہ دلا دیتا ہوں کہ وہ تحریک جدید کے وعدے اس رنگ میں بھجوائیں کہ ہر ایک بالغ احمدی اس میں شامل ہو جائے اور اپنی حیثیت کے مطابق اس میں حصہ لے۔ہر ایک احمدی کو بتاؤ کہ اس کا تحریک جدید میں حصہ لینا، احمدیت کے قیام کی غرض کو پورا کرنا ہے۔اگر کوئی شخص تحریک جدید میں حصہ نہیں لیتا تو اس کے احمدیت میں داخل ہونے کا کیا فائدہ؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ لوگوں پر بہت بوجھ ہے۔غرباء کی حالت کو دیکھ کر دل کڑھتا ہے۔ان پر اتنا بوجھ ہے، جو پہلے کبھی نہیں پڑا۔لیکن اس میں بھی کیا شبہ ہے کہ اسلام پر بھی وہ بوجھ آپڑا ہے، جو پہلے کبھی نہیں پڑا۔مصیبت کے وقت ہر ایک کو بوجھ اٹھانا ہی پڑتا ہے۔جب دنیا میں اسلامی حکومت اس رنگ میں قائم ہو جائے گی کہ ہر ایک شخص کو خوراک اور لباس مہیا کر دیا جایا کرے گا، اس وقت چندہ دینا موجودہ وقت میں چندہ دینے سے سواں حصہ بھی برکت کا موجب نہیں ہوگا۔پس بے شک تم پر بوجھ زیادہ ہے اور میں اس بوجھ کو محسوس کرتا ہوں۔اور ساری دنیا تمہاری تعریف کر رہی ہے۔لیکن ہمارا کام بھی بہت بڑا ہے اور ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔باوجود اس کے کہ ہم پر بوجھ زیادہ ہے، ہمیں اسلام کی خاطر قربانی کرنی پڑے گی۔کیونکہ ہمارے خدا نے ہم پر اعتبار کر کے یہ کام ہمارے سپرد کیا ہے۔( مطبوعه روزنامه افضل 24 جنوری 1952ء) 263