تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 257
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سو سوم اقتباس از تقریر فرموده 24 مارچ 1951ء وو تحریک جدید کے کام کی اہمیت تقریر فرمودہ 24 مارچ 1951ء بر موقع مجلس شوری تحریک کا بجٹ گو خوشکن ہے لیکن مالی لحاظ سے تحریک جدید، صدر انجمن احمدیہ کے مقابلے میں زیادہ خطرناک حالات میں سے گزر رہی ہے۔پچھلے دو سال سے چندوں کی وصولی میں کمی واقع ہوگئی ہے۔حالانکہ کام کی اہمیت اور اس کے خوشکن نتائج کے پیش نظر لوگوں میں قربانی کا جوش بڑھ جانا چاہئے تھا۔یہ تحریک جدید کی ہی برکت ہے کہ آج مختلف ممالک کے لوگ علم دین حاصل کرنے کے لئے یہاں آئے ہوئے ہیں اور اس وقت بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔طلباء کی آمد کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔علاوہ از میں بیرونی ممالک کے احمدی بڑھ چڑھ کر خدمت اسلام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر رہے ہیں۔امریکہ کے رشید احمد ، زندگی وقف کرنے کے بعد ایک عرصہ سے ربوہ میں مقیم ہیں۔ان کے علاوہ امریکہ سے چار اور نو جوانوں کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔انہوں نے بھی خدمت اسلام کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا ہے۔ادھر د نیوی لحاظ سے بھی بیرونی جماعتیں بفضلہ ترقی کر رہی ہیں۔گولڈ کوسٹ کے حالیہ انتخابات میں خدا تعالیٰ کے فضل سے تین احمدی کامیاب ہو کر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔یہ چیز میری سمجھ سے باہر ہے کہ تحریک جدید کی اتنی اہمیت کے باوجود احباب نے چندوں کی ادا ئیگی میں غفلت سے کیوں کام لیا ہے؟ شاید لوگوں نے سمجھ لیا کہ بیرونی ممالک میں مشن قائم کر کے ہم نے تبلیغ کا حق ادا کر دیا ہے اور ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔حالانکہ میدان تبلیغ کی وسعت کے مقابلے میں ہماری مساعی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ہمارے مبلغ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔اگر صحیح معنوں میں تبلیغ کی جائے تو ہر تین سو آدمیوں پر ایک مبلغ ہونا چاہئے۔یاد رکھو، تبلیغ کا حق اس وقت ہی ادا ہو گا کہ جب ہر ایک فرد تک اسلام واحمدیت کا پیغام پہنچ جائے گا اور اس پر صداقت واضح کر دی جائے گی۔دنیا کی موجودہ آبادی کو دیکھتے ہوئے لاکھوں لاکھ مبلغین اس کام پر متعین کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے بالمقابل ہم نے صرف چند سو مبلغ دنیا میں پھیلا رکھے ہیں۔جو آٹے میں نمک کے برابر بھی قرار نہیں دیئے جا 257