تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 255
اقتباس از خطبه جمعه فرمود : 14 دسمبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم ریز روفنڈ قائم کیا اور پھر اس نے کہا کہ اب ہمیں ایک کروڑ روپیہ کا ریز روفنڈ قائم کرنا چاہیے۔وہ حیران ہوں گے کہ کیا یہ بھی کوئی روپیہ ہے، جس کا اتنے بڑے خلیفہ نے مطالبہ کیا تھا؟ آکسفورڈ یو نیورسٹی نے ایک دفعہ روپیہ کے لئے اعلان کیا تو مسٹر مارلین نے فوراً پندرہ لاکھ روپیہ کا چندہ پیش کر دیا۔راک فیلر را شیلڈ وغیرہ نے چھ چھ سات سات کروڑ روپیہ چندہ دیا ہے۔پس جب وہ میرے اس خطبہ کو پڑھیں گے تو حیران ہوں گے اور وہ اس تھوڑے سے روپیہ کو ہمارے حوصلہ اور عزم کی کمی پر محمول کریں گے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں، اپنی جماعت کی موجودہ حالت کے لحاظ سے کہ رہے ہیں۔ورنہ ہم بھی جانتے ہیں کہ جو عظیم الشان کام ہم نے انجام دینا ہے، اس کے لئے کروڑوں ہی نہیں، اربوں ارب روپیہ کی ضرورت ہے۔لیکن اس وقت ہماری نگاہ میں وہی روپیہ بڑی قیمت رکھتا ہے، جو ہماری جماعت اپنی غربت کی حالت میں پیش کر رہی ہے۔پیس بے شک بعد میں بڑے بڑے امراء آئیں گے۔لیکن یہ زمانہ ہماری کمزوری کا زمانہ ہے۔اس وقت ہماری جماعت کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ایک کروڑ روپیہ کاریز روفنڈ قائم کر دے۔بے شک ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ بعض امراء حیران ہوں گے کہ کیا ہماری جماعت اتنی کمزور تھی کہ اتنا بڑا خلیفہ صرف ایک کروڑ روپیہ کو اپنا بڑا مقصد قرار دیتا تھا۔لیکن ہمارا روپیہ ہمارے دل اور جگر کا خون ہوگا اور ان کا رو پیران کے دل اور جگر کا خون نہیں ہو گا۔بلکہ وہ نہایت آسانی کے ساتھ اپنی جیب میں سے نکال کر دے دیں گے اور انہیں کچھ بھی تکلیف محسوس نہیں ہوگی۔پس ہمارے کروڑ اور ان کے کروڑ میں فرق ہے“۔۔۔۔۔۔بی حالات بہر حال بدلیں گے۔ایک جیسی حالت کسی قوم پر ہمیشہ نہیں رہ سکتی۔مگر آنے والے امراء کا روپیہ دریا میں سے ایک قطرہ ہوگا۔اور ہمارا روپیہ وہ ہے، جو ہم خون دل اور خون جگر کے ساتھ جمع کر رہے ہیں اور قطرہ میں سے دریا کا رنگ رکھتا ہے۔پس ان کا حیران ہونا کہ کسی وقت ہماری جماعت کی مالی حالت اتنی کمزور تھی کہ ایک کروڑ روپیہ جمع کرنا بھی بڑی بات سمجھی جاتی کوئی تعجب کی بات نہیں۔مگر اس وقت کے آنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم حسن تدبیر سے اور عقل سے اور قربانی سے کام لیں۔اور اپنے نفس پر بوجھ ڈال کر چندوں میں ایسی با قاعدگی اختیار کریں کہ سالانہ اخراجات کو پورا کرنے کے علاوہ ہم مستقل طور پر ایک کروڑ کاریز روفنڈ قائم کر سکیں۔تا کہ مشکل کے وقت اس کی آمد ہمارے کام آئے۔جیسے میں نے بتایا ہے، ہم نے مسجد کے لئے زمین خریدی تو ایک دوست سے قرض لے کر۔اور اب ہم شرمندہ ہیں کہ قرض واپس نہیں کر سکے۔اگر ریز روفنڈ قائم ہوتا تو ہمیں کوئی مشکل پیش نہ آتی۔ہم یہ 255