تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 254

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 دسمبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم جائے۔چونکہ عورت کے پاس روپیہ کم ہوتا ہے، اس لئے وہ قربانی میں مردوں سے آگے نکل جاتی ہے۔لیکن اس واقعہ کو بدلنا بھی ہمارے اختیار میں ہے۔بے شک واقعہ یہی ہے کہ عورتیں زیادہ قربانی کرتی ہیں لیکن یہ خدا تعالیٰ کا کوئی اٹل فیصلہ نہیں کہ وہی زیادہ قربانی کریں گی ، مرد زیادہ قربانی نہیں کر سکتے۔یہ صرف ایک کمزوری اور ضعف کی علامت ہے، جسے کوشش کے ساتھ دور کیا جاسکتا ہے۔اگر عورت اپنی طبعی کمزوری اور فطری ضعف کے باوجود قربانی کے میدان میں آگے نکل جاتی ہے تو مرد کیوں اپنی کمزوری کو دور نہیں کر سکتے ؟ جب مردوں کو جائیداد میں سے دوسرا حصہ ملتا ہے تو انہیں ہمت بھی دگنی دکھانی چاہیے۔خدا تعالی نے انہیں دو روپے دیئے ہیں مگر چندہ دیتے وقت وہ عورت کے مقابلہ میں اٹھنی دیتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مردوں اور عورتوں کے مجموعی چندوں کو اگر دیکھا جائے تو مردوں کا چندہ زیادہ ہوتا ہے۔لیکن نسبتی لحاظ سے چندہ دیتے وقت اگر عورت ایک روپیہ دینے کا حوصلہ رکھتی ہے تو مرد اٹھنی دینا چاہتے ہیں۔حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ مرد اس کے ایک روپیہ کے مقابلہ میں دو بلکہ چار روپے دینے کا حوصلہ رکھتے۔بہر حال اس چیز کو بدلنا ہمارے اختیار میں ہے۔اگر ہم جدوجہد کریں ، خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کریں ، اس کے حضور استغفار سے کام لیں اور اس سے دعا کریں کہ الہی تو نے ہمیں طاقت زیادہ دی ہے لیکن ہم میں حوصلہ کم ہے۔تو ہماری اس کمزوری اور ضعف اور غفلت کو دور فرما۔اور جس طرح تو نے ہمیں عورت پر درجہ کے لحاظ سے فضیلت دی ہے، اسی طرح تو ہمیں عورت پر قربانی کے لحاظ سے بھی فضیلت دے۔تو یقینا خدا تعالیٰ ہماری سنے گا اور وہ ہم میں بھی قربانی کی زیادہ روح پیدا کر دے گا۔پس یہ کام ایسے ہیں، جو بہت سے اخراجات چاہتے ہیں۔پھر لٹریچر ہے۔دنیا میں پانچ ، سات ہزار زبان ہے لیکن صرف آٹھ ، دس زبانوں میں احمدیت کا لٹریچر ہے۔عیسائیوں نے قریباً ہر زبان میں اپنے لٹریچر کا ترجمہ کر دیا ہے۔یہ کام بھی ہم سے بہت بڑے اخراجات کا مطالبہ کرتا ہے۔غرض ایک بہت وسیع کام ہے، جو ہمارے سامنے ہے۔مگر ہمارا سالانہ بجٹ جب ہمارے روز مرہ کے اخراجات کے لئے بھی کافی نہیں ہوسکتا تو ہمارے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم ایک کروڑ روپیہ کاریز روفنڈ قائم کریں۔تا کہ کسی حادثہ اور مصیبت کے وقت اگر خدانخواستہ ہمارے چندے مرکز کی عارضی ضرورت کو پورا نہ کر سکیں تو وہ ریز روفنڈ کی آمد سے پوری ہو سکے اور سلسلہ کے کاموں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔آج سے چالیس یا پچاس سال کے بعد جب ہماری جماعت ترقی کر جائے گی اور بڑے بڑے امراء ہمارے سلسلہ میں داخل ہوں گے تو اس وقت لوگ جب میرے اس خطبہ کو پڑھیں گے تو وہ حیران ہوں گے کہ ہمارا خلیفہ، جو موعود خلیفہ تھا، جو صلح موعود تھا، اتنا چھوٹا حوصلہ رکھتا تھا کہ پہلے اس نے تمیں لاکھ کا 254