تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 253
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 دسمبر 1951ء شریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم - جتنا جتنا کسی کے پاس روپیہ کم ہوتا ہے، اتنا ہی اس کا حوصلہ زیادہ ہوتا ہے۔مردوں کے پاس چونکہ روپیہ زیادہ ہوتا ہے، اس لئے ان کا حوصلہ کم ہوتا ہے۔لیکن عورتوں کے پاس چونکہ روپیہ کم ہوتا ہے ، اس لئے وہ کہتی ہیں کہ روپیہ تو یوں بھی ہمارے پاس ہے نہیں ، چلو جو کچھ ملتا ہے، وہ خدا تعالیٰ کے رستہ میں ہی قربان کر کے اس کی رضا حاصل کریں۔مگر جس کے پاس روپیہ ہوتا ہے، وہ کہتا ہے میرا فلاں کام بھی پڑا ہے، اس کے لئے مجھے دس روپے چاہیں۔فلاں کام پڑا ہے ، اس کے لئے ہیں روپے چاہیں۔غرض ہمارا تجربہ ہمیشہ یہی بتاتا ہے کہ عورت اپنی توفیق اور ہمت سے بہت زیادہ قربانی کرتی ہے اور مرد اپنی توفیق اور ہمت سے کم قربانی کرتا ہے۔بے شک ایسے مرد بھی موجود ہیں، جو اپنی توفیق اور ہمت سے بہت زیادہ قربانی کرنے والے ہیں۔لیکن اگر اکثریت کو دیکھا جائے تو عورت کا پلہ بھاری نظر آتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی جب خاص قربانی کی ضرورت ہوا کرتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے ہی اپیل کیا کرتے تھے۔کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے تھے کہ عورت جذباتی ہوتی ہے، جب قربانی کرنے پر آجائے تو وہ غیر معمولی طور پر قربانی کر جاتی ہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ضرورت پیش آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز کے بعد عورتوں میں تحریک کی اور انہوں نے اپنے زیورا تار کر چندہ میں دینے شروع کر دیئے۔یوں تو عورت کو سب سے زیادہ زیور ہی پسند ہوتے ہیں کیونکہ وہی اس کی جائیداد ہوتے ہیں۔لیکن جب اسے جوش آجائے تو پھر وہ اسی زیور کو جو اسے محبوب ہوتا ہے، اتار کر پھینک دیتی ہے۔عورتوں نے اسی طرح کیا اور زیورا تارا تا ر کر دینے شروع کر دیئے۔مگر چونکہ اکثر غریب عورتیں تھیں، اس لئے ان کے پاس کم قیمت زیور تھے۔کسی نے چھلہ دے دیا، کسی نے مرکی دے دی، کسی نے اسی قسم کی کوئی اور چیز دے دی۔ایک صحابی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیور اکٹھے کرنے کا حکم دیا تھا اور وہ جھولی پھیلائے ادھر ادھر پھر رہے تھے اور عورتیں گھونگھٹ نکالے بیٹھی تھیں۔اتنے میں ایک امیر گھرانے کی لڑکی نے سونے کا کڑا اپنے ہاتھ سے اتارا اور اس کی جھولی میں ڈال دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا کہ اس نے بڑی بھاری رقم خدا تعالی کی راہ میں دی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا دوسر ہاتھ بھی درخواست کرتا ہے کہ تو اسے دوزخ سے بچا۔اس پر اس نے اپنا دوسرا کڑا بھی اتار کر دے دیا۔تو عورتوں میں، میں نے دیکھا ہے کہ ان میں قربانی کا مادہ مردوں سے زیادہ ہوتا ہے۔کچھ جذباتی ہونے کی وجہ سے اور کچھ یہ خدائی قانون ہے کہ روپیہ جتنا کم ہو، اتنی ہی ہمت بڑھی ہوئی ہوتی ہے اور جتنازیادہ روپیہ ہو ، اتنے ہی تفکرات زیادہ ہو جاتے ہیں کہ فلاں کام بھی ہو جائے ، فلاں کام بھی ہو 253