تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 252

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 دسمبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم وہاں آتے ہیں اور اگر کسی معاملہ میں ان سے پروٹسٹ کیا جائے یا ملاقات کی جائے تو وہ ہمارا ادب بھی کرتے ہیں، لحاظ بھی کرتے ہیں، جواب بھی دیتے ہیں اور خوش کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہاں ہماری دیر سے مسجد موجود ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ان لوگوں کا یہاں ڈیرہ قائم ہو چکا ہے۔لیکن جہاں یہ ڈیرے قائم نہیں، وہاں بڑی وقتیں پیش آتی ہیں۔پس جہاں جہاں ہم مشن کھولنا چاہتے ہیں، ضروری ہے کہ وہاں کم از کم کسی ایک شہر میں ، جو مرکزی حیثیت رکھتا ہو، ہمارا اپنا مکان ہو۔لیکن یورپیئن ملکوں میں ایک، ایک مکان کے لئے لاکھوں روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔مثلاً ابھی ہم نے واشنگٹن میں مرکز کے لئے ایک مکان خریدا ہے، جس پر بیالیس ہزار ڈالر خرچ آیا ہے۔بیالیس ہزار ڈالر کے معنی ہیں، ایک لاکھ، پینتالیس ہزار روپیہ اور یہ روپیہ صرف مکان خرید نے پر خرچ ہوا ہے۔اگر ہم مسجد بنا ئیں تو قریباً ستر ، اسی ہزار روپیہ اور خرچ ہوگا۔مگر جماعت کے چندہ کی یہ حالت ہے کہ دوستوں میں ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی تحریک کی گئی تو آیا صرف چالیس ہزار۔باقی رو پید ادھر ادھر سے قرض لے کر پورا کیا گیا ہے۔بعض قرض دینے والوں سے تو ہم شرمندہ بھی ہیں۔اور ایک دوست سے صرف چھ ماہ وعدے پر قرض لیا گیا تھا۔مگر وقت گزر گیا مگر روپیہ ادانہ ہو سکا۔انہیں بھی ضرورت تھی ، آخر انجمن نے مجھے لکھا کہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم وہی مکان گردر کھ کران کا روپیہ ادا کریں۔میں نے کہا کہ بے شک مکان گرور کھ دو اور ان کا روپیہ ادا کر دو۔اب یہ ہے تو بڑے شرم کی بات کہ جو مکان مسجد کے لئے خریدا گیا تھا ، اس کو گرو رکھنے کی اجازت دے دی جائے۔مگر یہ صورت حالات اس لئے پیدا ہوئی کہ اتنے اہم کام کی طرف جماعت نے اتنی کم توجہ کی کہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی تحریک کی گئی اور چندہ چالیس ہزار روپیہ آیا۔ہالینڈ کی مسجد کے متعلق عورتوں میں تحریک کی گئی تھی۔انہوں نے مردوں سے زیادہ قربانی کا ثبوت دیا ہے۔گوان کی تحریک بھی چھوٹی تھی۔عورت کی آمدن ہمارے ملک میں تو کوئی ہوتی ہی نہیں۔اگر اسلامی قانون کو دیکھا جائے تو عورت کی آمد مرد سے آدھی ہونی چاہیے۔کیونکہ شریعت نے عورت کے لئے آدھا حصہ مقرر کیا ہے اور مرد کے لئے پورا حصہ۔پس اگر مردوں نے چالیس ہزار روپیہ دیا تھا تو چاہیے تھا کہ عورتیں بیس ہزار روپیہ دیتیں۔مگر واقعہ یہ ہے کہ مردوں نے اگر ایک روپیہ چندہ دیا ہے تو عورتوں نے سوارو پے کے قریب دیا ہے۔انہوں نے زمین کی قیمت ادا کر دی ہے اور ابھی چھ ، سات ہزار رو پید ان کا جمع ہے۔جس میں اور روپیہ ڈال کر ہالینڈ کی مسجد بنے گی۔پھر یہ چندہ انہوں نے ایسے وقت میں دیا ہے جبکہ لجنہ کا دفتر بنانے کے لئے بھی انہوں نے چودہ، پندرہ ہزار روپیہ جمع کیا تھا۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ 252