تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 239

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1951ء درمیان کوئی باقاعدہ معاہدہ ہوا ہو کہ میں تم سے صرف تین سال چندہ لوں گا یا دس سال چندہ لوں گا۔مگر یہاں تو انصار کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاہدہ تھا کہ اگر مدینہ پر حملہ ہوا تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر دشمن کا مقابلہ کرنا پڑا تو ہم اس میں شامل ہونے کے پابند نہیں ہوں گے۔) اس صحابی نے کہا یا رسول اللہ ! جب یہ معاہدہ کیا گیا تھا ، اس وقت ہمیں یہ پتہ نہیں تھا کہ نبی کیا ہوتا ہے اور رسول کیا ہوتا ہے؟ ہمیں آپ کی باتیں پسند آئیں اور ہم نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو آواز اٹھی ہے، ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو قبول کر لیں۔لیکن اس کے بعد ہم نے خدا تعالیٰ کے متواتر نشانات دیکھے، آپ کی صداقت کے سینکڑوں معجزات دیکھے اور ہمیں معلوم ہوا کہ آپ کی شان کیا ہے۔پس یا رسول اللہ ! اب معاہدات کا کوئی سوال نہیں۔معاہدات کا زمانہ گزر گیا، اب اور زمانہ آگیا ہے۔یا رسول اللہ ! سامنے سمندر ہے، آپ حکم دیجیے، ہم اس میں اپنے گھوڑے ڈالنے کے لئے تیار ہیں۔اور یا رسول اللہ! اگر دشمن کا مقابلہ کرنے کا ہی فیصلہ ہوا تو ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا ، جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گذرے۔پس جب میں نے تم کو تین سال کہا یا دس سال کہا یا انیس سال کہا تو مجھے پتہ نہیں تھا کہ ہمارے سامنے خدا تعالیٰ کی کیا سکیم ہے؟ جب میں نے تم سے کہا کہ آؤ اور تین سال کے لئے قربانی کرو تو اس وقت صرف احراری فتنہ سامنے تھا۔جب میں نے کہا، آؤ اور دس سال تک قربانی کرو تو ہم نے سمجھا کہ باہر کی جماعتوں میں، جو ہم نے چند مشن قائم کر دیئے ہیں، یہ اس وقت تک اپنا کام کرنا شروع کر دیں گے۔اس وقت میرا ذہن اس وسعت کی طرف نہیں گیا کہ ہم نے ساری دنیا میں اسلام کی تبلیغ کرنی ہے۔پھر میں نے دس سالہ تحریک کو 19 سال تک ممتد کر دیا اور ایک دوسرے دور کا بھی ساتھ ہی آغاز کر دیا۔کیونکہ اس وقت مجھے ایک حد تک روشنی نظر آنے لگ گئی تھی اور کام نے اپنی عظمت کو ظاہر کرنا شروع کر دیا تھا۔مگر ابھی اس کام کی پوری اہمیت ہم پر روشن نہیں ہوئی تھی۔مگر سولہویں اور ستر ہویں سال میں آکر اللہ تعالیٰ نے اس سکیم کی عظمت کو مجھ پر روشن کر دیا اور میرا اذہن اس طرف مائل ہوا کہ اس سکیم کے لئے سالوں کی تعیین بے معنی ہے۔ہم نے ساری دنیا میں اسلام کی تبلیغ کرنی ہے، ہم نے چپہ چپہ پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم کرنی ہے اور یہ کام چند سالوں کا نہیں، یہ کام ہمیشہ ہمیش کا ہے۔پس میں نے جب کہا تھا کہ آؤ تین سال کے لئے قربانی کرو یا دس سال کے لئے قربانی کرو تو میں نہیں جانتا تھا کہ میرے سامنے کتنا بڑا کام ہے؟ جب تم نے کہا کہ ہم تین سال کے لئے قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں یا دس سال کے لئے 239