تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 221
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 07 ستمبر 1951ء ٹریک جدید کے وعدوں کو ادا کرنے کے ذرائع بھی بتائے گئے ہیں کہ اس اس طرح زندگی بسر کرو تو اتنی گنجائش اخراجات سے نکل آئے گی کہ آپ وعدہ ادا کر سکیں گے۔بے شک بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے اتنا وعدہ کیا ہے کہ وہ اب اسے ادا نہیں کر سکتے۔ایسے لوگ سات ، آٹھ ہزار وعدہ کرنے والوں میں سے سو ڈیڑھ سو ہوں گے۔بے شک ان لوگوں نے اتنی رقم کا وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے ادا نہیں کر سکتے۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ ان میں سے بھی دس، بارہ فیصدی لوگوں نے سستی کی ہوگی۔ورنہ اکثر لوگوں نے وعدے ادا کر دیئے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ ہمیشہ زیادہ وعدہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں وقت کے اندر ادا کرنے کی توفیق بھی دے دیتا ہے۔زیادہ تر نادہندگان ان میں سے ہیں، جنہوں نے ہمیشہ اپنی حیثیت سے کم وعدے کیے ہیں۔کیونکہ ایک بدی، دوسری بدی پیدا کرتی ہے۔جب انسان پوری قربانی نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ کے فرشتے اس میں زور اور طاقت پیدا نہیں کرتے۔استثناء ہر جگہ ہوتا ہے۔جن لوگوں نے اپنی حیثیت سے کم وعدے کیے ہیں، ان لوگوں میں سے بھی بعض نے وعدے پورے کر دیئے ہیں اور کچھ ایسے ہیں، جنہوں نے وعدے پورے نہیں کیے۔اس طرح جن لوگوں نے اپنی حیثیت سے زیادہ وعدے کیے ہیں، ان میں سے بھی بعض نے وعدے پورے کئے ہیں اور بعض نے ابھی وعدے پورے نہیں کیے۔لیکن اگر اصولی طور پر دیکھا جائے تو جن لوگوں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر وعدے کیے ہیں، ان میں سے نوے فیصدی نے وعدے ادا کر دیئے ہیں۔اور جن لوگوں نے اپنی حیثیت سے کم وعدے کیے ہیں ، ان میں سے پچاس فیصدی ایسے ہوں گے، جنہوں نے ابھی ادائیگی کی طرف توجہ نہیں کی۔یہ اس لئے ہے کہ جو لوگ اپنی حیثیت سے زیادہ وعدے کرتے ہیں ، خدا تعالیٰ کے فرشتے ان کی مدد کرتے ہیں۔کیونکہ وہ ایک ناممکن کام کر رہے ہیں۔لیکن حیثیت سے کم وعدہ کرنے والے اس مدد سے محروم رہتے ہیں۔کیونکہ وہ مکن کام بھی نہیں کر رہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگلے ماہ مجھے دوبارہ جلسہ کروانا پڑے گا تاوہ جلسہ ، کام کا جلسہ ہو۔اس میں صرف دھواں دھار تقریریں نہ ہوں۔ربوہ میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔دھواں دھار تقریروں پر ہی بس کر دی گئی ہے۔بے شک میری بھی تقریر ہوئی ہے اور اس کی بناء پر کچھ وعدے کیے گئے ہیں۔لیکن ہر ایک شخص کا کام الگ الگ ہوتا ہے۔خلیفہ کا یہ کام نہیں کہ وہ گھر گھر جائے اور وعدے لے۔اور سب دنیا کے پاس جا بھی کس طرح سکتا ہے؟ چاہیے یہ تھا کہ گروپ بنائے جاتے اور خدام کو اس کام پر لگا کر تمام لوگوں کی نسیں بنائی جاتیں اور کہا جاتا کہ تمہارا اس سال کا اتناوعدہ تھا۔نو ماہ تم نے سستی سے کام لیا ہے، اب اسے ادا کر 221