تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 222

اقتباس از خطبه جمعه فرمود: 07 ستمبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم دو۔ورنہ وقت ہاتھ سے نکل جائے گا۔اس طرح جن لوگوں نے وعدہ نہیں کیا، ان سے وعدے لیتے اور ان اور سے جلد وصولی کا انتظام کرتے تاروپیہ آتا اور مشکل دور ہوتی۔اس ماہ دفتر کے کارکنوں کو گزارہ نہیں ملا۔وہ کیا کریں گے؟ کیا یہ کہ دیا جائے گا کہ گوجرانوالہ کی ایک دھواں دھار تقریر، ایک محکمہ کو دے دی جائے اور ان کو کہا جائے کہ وہ اس کو آپس میں تقسیم کر لیں؟ لاہور کی دھواں دھار تقریر، دوسرے محکمہ کو دے دی جائے کہ وہ آپس میں تقسیم کر لیں ؟ راولپنڈی کی دھواں دھار تقریر، تیسرے محکمہ کو دے دی جائے کہ وہ آپس میں تقسیم کر لیں؟ جھوٹ بولنے سے کیا فائدہ؟ پہلے یہ گناہ کیا کہ پہلے وعدہ ادا نہیں کیا اور اب مزید جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ ہم نے دھواں دھار تقریریں کر دی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ توجہ سے کام نہیں کیا گیا۔جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے، بعض رپورٹیں خوش کن ہیں۔انہوں نے ایسا ہی کیا ہے کہ یا تو وعدہ ادا کر کے جاؤ یا یہ بتاؤ کہ کس دن ادا کرو گے ؟ حتی کہ بعض مہاجرین کی جماعتیں ہیں، انہوں نے اس رنگ میں کام کیا ہے اور ان کی کوشش کے نتیجہ میں لوگوں نے وعدے ادا کیے ہیں۔اور جن لوگوں نے وعدے ادا نہیں کیے، انہوں نے ایک معین وقت کے بعد ادائیگی کا وعدہ کیا ہے۔پس جماعت کو چاہیے کہ وہ جس کام کے لئے کھڑی ہوئی ہے، وہ اس کے رنگ کو بھی اختیار کرئے“۔وو تحریک جدید کے جلسوں کی غرض یہ تھی کہ وعدوں کی ادائیگی میں جن لوگوں سے غفلت ہوئی ہے، انہیں کہا جائے کہ وعدے پورے کرو۔نہ یہ کہ دھواں دار تقریریں کرو اور عملی طور پر کچھ نہ کرو۔وعدوں اور چندوں کو دھوئیں میں اڑا دو۔بلکہ ان جلسوں کی غرض یہ تھی کہ وعدے وصول کرو اور جو کہتے ہیں کہ اب وعدہ ادا کرنا مشکل ہے، انہیں کہو کہ سلسلہ کا کیا قصور ہے؟ یہ مشکل تم نے اپنے لئے خود پیدا کی ہے۔تم نے وعدہ وقت پر ادا نہیں کیا۔اب اس کی سزا خود بھگتو ، استغفار کرو اور قربانی کر کے وعدوں کو ادا کروں لیکن 02 ستمبر کے جلسوں میں کچھ بھی نہیں ہوا۔صرف بعض خطوط آگئے ہیں، جو میں نے تحریک جدید کو بھجوا دیئے ہیں کہ مبارک ہو، تمہارا کام ہو گیا۔تقریریں کرنے والوں اور رپورٹیں لکھنے والوں کو سوچنا چاہیئے کہ آیا محض تقریروں اور کا غذ سیاہ کر دینے سے کچھ بنتا ہے؟ کیا یہ خدا تعالیٰ کا منشاء ہے؟ خدا تعالیٰ کا منشاء تو یہ ہے کہ ایک دفعہ منہ سے کہ دو، اسے پورا کرو۔وہ خدا تعالیٰ جو کہتا ہے، وہی کرتا ہے۔خواہ ہزاروں آدمی مر جائیں ، اس کی پرواہ نہیں۔چنانچہ دیکھ لو، خدا تعالیٰ کا نبی جب دنیا میں آتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے خدا نے کہا ہے ، یوں ہوگا تو خواہ 222