تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 220
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 07 ستمبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم فیصدی وعدے بھی ادا ہو جاتے تو مجھے خوشی ہوتی۔انہوں نے خدا تعالی کونو ماہ تک ناراض کیا، اگر وہ اسے جلدی خوش نہیں کرتے تو وعدے کا فائدہ ہی کیا تھا ؟ اگر ان جلسوں سے ہمیں کوئی فائدہ ہوتا تو وہ تقریریں دھواں بھی رکھتی تھیں اور دھار بھی رکھتی تھیں۔لیکن ہوا یہ کہ جس طرح لوگ جیبیں بند لائے تھے، اسی طرح بند جیبیں لے کر وہ واپس چلے گئے۔بعض جگہوں پر کارکن کھڑے ہوئے اور انہوں نے اچھل اچھل کر تقریر کر دی۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جو کچھ ہوا، اس کا اکثر حصہ عبث ہوا۔تم تبلیغ کرنے نہیں گئے تھے تم فرض شناسی کی طرف توجہ دلانے گئے تھے۔تبلیغ میں تو بعض دفعہ سالوں انتظار کرنا پڑتا ہے اور پھر کوئی نتیجہ نکلتا ہے۔لیکن فرض شناسی میں پندرہ سولہ منٹ کی دیر بھی نہیں لگتی۔تم اگر کسی دہریہ کو کہو گے کہ نماز پڑھو تو وہ پہلے خدا پر ایمان لائے گا، پھر رسول پر ایمان لائے گا اور پھر نماز کا اسے پتہ لگے گا۔لیکن اگر تم کسی مسلمان بچہ کو کہو گے، نماز پڑھو تو تم ایک دفعہ نصیحت کرو گے اور وہ عمل کرنے لگ جائے گا۔اور یا پھر تم اس کو تھپڑ مارو گے کہ مسلمان بچے ہو کر نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ تم نے احمدیوں سے وعدے پورے کروانے تھے ، یورپیئن ، ہندؤوں، چینیوں، زرتشتیوں یا جاپانیوں سے وعدے پورے نہیں کروانے تھے۔اگر تم نے یورپین ، ہندؤوں، چینیوں، زرتشتیوں یا جاپانیوں سے وعدے پورے کروانے ہوتے تو پھر بے شک انتظار کی ضرورت تھی۔لیکن یہ جلسے تو تربیتی جلسے تھے۔ان کا نتیجہ اسی وقت نکل آنا چاہیے تھا۔آخر جو احمدی کہلاتا ہے، وہ ایک مکان کی اینٹ بن چکا ہے، وہ زنجیر کا ایک حصہ بن چکا ہے، اس نے بیعت کرتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ میں دین کو رکھوں گا، میں دین کے لئے جان و مال اور عزت سب کچھ قربان کر دوں گا۔اس کا چندہ ادانہ کرنا محض سستی ہے اور کچھ نہیں۔چاہیے تھا کہ کہا جاتا ، نوماہ تک تم نے ستی کی ہے، اب تم بیدار ہو جاؤ اور و عده ادا کر دو۔اگر اب ادا ئیگی میں تمہیں کوئی مشکل نظر آتی ہے تو اس کو برداشت کرو۔سستی اور غفلت کی سزا تمہیں بھگتی چاہیے نہ کہ سلسلہ کو۔یہ چیز تھی، جو اس جلسہ کی غرض تھی۔ورنہ محض دھواں دھار تقریروں سے، جن کا کوئی اثر نہ ہو، کیا بنتا ہے؟ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ جتنی رپورٹیں میرے پاس آئی ہیں، ان میں سے اکثر محض زیب داستاں کے لئے تھیں۔اور شاید اگلے ماہ مجھے جلسہ کی پھر ضرورت ہوگی۔یہ جلسہ دھواں دھار تقریریں کرنے کے لئے نہیں ہوگا۔بلکہ اس جلسہ میں جماعت کے دوستوں کو کہا جائے گا کہ یا تو اتنی رقم یہاں رکھ دو یا دس، پندرہ دن تک ادا کرنے کا وعدہ کرو۔یہ دین کا کام ہے، جو باقی سب کاموں پر مقدم ہے۔اور اگر آپ دنیا پر مقدم را لوگوں کو ادائیگی میں کوئی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے تو وہ تکلیف تمہیں برداشت کرنی پڑے گی۔220