تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 208

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم اقتباس از تقریر فرموده 02 ستمبر 1951ء میری خواہش تھی کہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں سونا پیش کروں۔لیکن زیادہ دیر انتظار نہیں کیا جاسکتا تھا۔جو رقم جمع ہوتی، میں وہ یہاں آکر پیش کر جاتا۔آخر وہ وقت بھی آگیا کہ خدا تعالیٰ نے میری تنخواہ بڑھادی اور اس نے توفیق دی کہ سونا جمع کر کے میں اپنی خواہش کو پورا کر سکوں۔لیکن جب یہ وقت آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے۔یہ فقرہ کہا ہی تھا کہ ان کی چیخ نکل گئی۔پھر وہ کچھ سنبھلے اور کہا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس دنیا میں تھے تو مجھے سونا میسر نہیں تھا اور جب سونا میسر آیا تو آپ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ان کے ہاتھ میں اس وقت پانچ یا سات اشرفیاں تھیں ، وہ انہوں نے مجھے دیں اور کہا یہ اب حضرت امیر المؤمنین کو دے دی جائیں۔وہ لوگ بھی انسان تھے، جنات نہیں تھے۔وہ بھی تمہارے جیسے مرد تھے، فرشتے نہیں تھے۔ان کو بھی کھانے پینے کی ضرورت تھی ، ان کے ساتھ بھی دنیاوی حوائج لگی ہوئی تھیں۔لیکن ان کے اندر ایمان کا شعلہ بھڑک رہا تھا۔اور وہ قربانی کو ہر چیز پر مقدم رکھتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ خواہ ہم ننگے رہیں لیکن خدا تعالیٰ کا بلند کیا ہوا جھنڈا اونچار ہے۔لیکن تم ان سے کئی گنے زیادہ ہو چکے ہو تم احمد بیت سے جو لذت حاصل کر رہے ہو، یہ لذت وہ حاصل نہیں کرتے تھے۔اس وقت احمدیوں کی تعریف کرنے والا کوئی نہیں تھا، اس وقت ابھی مرکز کی بنیاد رکھی جارہی تھی، جیسے مکڑی اپنا جالا بنتی ہے۔لیکن یہ کہ وہ دور دور ممالک میں نکل جائیں تبلیغ کریں اور عیسائیوں اور ادنی اقوام کو مسلمان بنا ئیں اور اس طرح اسلام کا جھنڈا بلند کریں، یہ چیز انہیں حاصل نہیں تھی۔یہ چیز اب تمہیں نصیب ہوئی ہے۔اس لئے کہ تم نے تحریک جدید میں دو دو، چار چار سوسو، دو دو سوروپے دیئے ہیں اور اس خرچ سے باہر مبلغ بھیجے جاتے ہیں اور وہ دوسری اقوام میں تبلیغ کرتے ہیں۔جب تمہیں احراری یا اس قسم کے دوسرے لوگ گالیاں دے رہے ہوتے ہیں تو ان میں سے ایک آدمی کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ چاہے تم انہیں گالیاں دو لیکن اسلام کی صحیح خدمت یہی لوگ کر رہے ہیں۔پس چاہئے تو یہ تھا کہ ہر احمد ی اس تحریک میں شامل ہوتا اور پھر ہر سال آگے نکلنے کی کوشش کرتا اور اپنے وعدہ کو پورا کرتا لیکن حالت یہ ہے کہ بجٹ وہی ہے۔بجٹ میں جو بارہ لاکھ روپیہ کی رقم دکھائی گئی ہے۔اس میں بیرونی ممالک کی رقوم بھی شامل ہیں۔جو پہلے بجٹ میں شامل نہیں کی جاتی تھیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اصلی بجٹ بھی پہلے سے 50 سے 60 ہزار زیادہ ہے۔لیکن ہر سال پانچ ، سات ہزار کا خرچ بڑھ جانا، معمولی چیز ہے۔اعتراض تب تھا، جب مقامی اخراجات زیادہ بڑھ جاتے۔لیکن صورت یہ ہے کہ بجٹ بڑھا نہیں لیکن باوجود اس کے کہ بجٹ وہی ہے ، ساری آمد پہلے تین ماہ میں خرچ ہو جاتی ہے۔یہ اس لئے نہیں کہ اخراجات کا بجٹ زیادہ ہو گیا ہے بلکہ یہ اس لئے ہے کہ جماعت میں سے ایک حصہ سست ہو گیا ہے۔208