تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 209

تحریک جدید - ایک ابی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از تقریر فرموده 02 ستمبر 1951ء پچھلے سال بھی مجھے بار بار توجہ دلانی پڑی اور میرے بار بار توجہ دلانے پر جماعت سنبھل گئی۔لیکن یہ سال پچھلے سال سے بھی بدتر ہے۔پچھلے سال اس وقت تک ایک لاکھ، اٹھارہ ہزار روپیہ وصول ہو چکا تھا۔اور وہ سال اتنا خراب تھا کہ کئی دن بغیر کسی آمد کے گزر جاتے تھے۔اس سال با وجود اس کے کہ احباب نے وعدہ کیا تھا کہ وہ وقت پر وعدہ ادا کریں گے اور قربانی پیش کریں گے، صرف ایک لاکھ ، بارہ ہزار، پانسو روپیہ کی آمد ہوئی ہے۔گویا تحریک جدید کے لحاظ سے جو سال تاریک اور برا تھا، یہ سال اس سے بھی زیادہ تاریک اور برا ہے۔ان حالات میں جولوگ وعدہ پورا کرنے میں سستی کر رہے ہیں، ان کا کیا حق ہے کہ وہ کہیں کہ ہم وہ جماعت ہیں، جس نے اسلام کو تمام دنیا پر غالب کرنا ہے۔اگر وعدہ نہ کرتے تو اس سے بہتر تھا کہ ہم وعدہ کر کے انہیں پورا نہیں کر رہے۔اصل بات تو یہی تھی کہ وہ بھی وعدے کرتے اور دوسرے احمدی بھی وعدے کرتے اور پھر ان کو جلد سے جلد ادا کرتے۔تحریک جدید کے قواعد کے ماتحت اپنے ماحول کو ، اپنے اخراجات کو ایسا بناتے کہ وہ قربانی کر سکتے۔مگر اس سے اتر کر یہ مقام تھا کہ وہ کہہ دیتے کہ ہم اس بوجھ کو نہیں اٹھا سکتے۔تم ہنستے ہو، حضرت موسی کی قوم پر کہ انہوں نے وقت پر حضرت موسی سے کہہ دیا۔فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا فَعِدُونَ کہ جاؤ تو اور تیرا رب لڑتے پھر وہ ہم یہاں بیٹھے ہیں۔مگر وہ لوگ ان سے اچھے تھے، جنہوں نے تحریک کے وعدے کر دیئے اور وقت پر پورا کرنے کی کوشش نہ کی۔کیونکہ انہوں نے اپنے نبی سے بچ سچ کہہ دیا کہ ہم تمہارے ساتھ مل کر دشمن سے نہیں لڑسکتے۔انہوں نے حضرت موسی کو دھوکہ نہیں دیا۔اگر پچاس، ساٹھ ہزار آدمی ان کے ساتھ مل جاتا اور پھر دشمن کے مقابلہ پر آکر بھاگ جاتا تو یہ زیادہ خطرناک تھا۔میں اگرا کیلا باہر نکلوں گا تو میں اپنی طاقت کے مطابق سکیم تیار کروں گا۔لیکن اگر پچاس، ساٹھ آدمی کا جتھہ میرے ساتھ دشمن کے ساتھ لڑنے کے لئے نکل کھڑا ہو اور جب دشمن سامنے آجائے تو بھاگ کھڑا ہو تو اس سے وہ کام ، جس کے لئے ہم باہر نکلے تھے، پورا نہیں ہو سکتا۔بلکہ خود امام کی جان خطرہ میں پڑ جاتی ہے۔پس اگر ان لوگوں میں روحانیت ہوتی، اگر ان میں ایمان ہوتا ، اگر شرافت ہوتی تو وہ اپنے وعدوں کو جلد ادا کر دیتے۔اس سال سے پہلے دو لاکھ اسی ہزار تک بھی وعدے ہوتے رہے ہیں اور وہ وعدے پورے ہوتے رہے ہیں۔لیکن اس سال دولاکھ سینتالیس ہزار روپے میں سے صرف ایک لاکھ ، بارہ ہزار، پانچ صد روپے وصول ہوئے ہیں۔یہ کیا کمال ہے، جس کا دعویٰ کرتے ہوئے تم میں سے بعض کے منہ سے جھاگ آنے لگتی ہے۔ان لوگوں نے اپنے اندر کا فروں والی دلیری ہی کیوں پیدا نہ کر لی کہ یہ 209