تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 207

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از تقریر فرمود 0 02 ستمبر 1951ء ٹوٹ گیا۔کسی دوسرے شخص نے کہا کہ نماز تو محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہے۔پھر تم کون ہو، یہ کہنے والے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حرکت سے نماز ٹوٹ گئی؟ پس فیصلہ تو خدا اور اس کے رسول نے کرنا ہے۔تم خودا اپنے آپ کو مومن سمجھ لو تو یہ درست نہیں ہوسکتا۔مومن اور منافق میں یہ فرق ہے کہ مومن ہر ضرورت کے وقت قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور اس کی نیت عمل سے بڑھتی جاتی ہے۔یعنی وہ قربانی کرتا ہے اور اس کا نفس کہتا ہے کہ یہ قربانی تھوڑی ہے، میں اور قربانی کروں۔اور پھر وہ ان بوجھوں کو برداشت کرتا ہے، جو اس کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔اور جو وعدہ کرتا ہے، اسے ضرور پورا کرتا ہے۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد منشی اروڑے خان صاحب ایک دفعہ قادیان آئے۔آپ پہلے منشی تھے، بعد میں ترقی کر کے تحصیلدار ہو گئے تھے۔اس زمانہ میں منشی کی تنخواہ سات آٹھ روپے ہوتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت کی وجہ سے وہ ہر اتوار قادیان آتے۔منشی صاحب کپور تھلے کے تھے اور ان کا گاؤں قادیان سے چھپیں، چھبیس میل کے فاصلہ پر تھا۔وہ پیدل چل پڑتے اور رستہ میں کہیں دو پیسے یا آنہ دے کہ تانگہ پر بیٹھ جاتے اور پھر پیدل چل پڑتے۔آٹھ ، دس روپے تنخواہ کے لحاظ جو وہ جمع کر سکتے تھے جمع کرتے اور جب قادیان آتے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بطور نذرانہ پیش کر دیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواة والسلام کی وفات سے کچھ دیر قبل یا وفات سے کچھ دیر بعد وہ تحصیلدار ہو گئے اور ان کی تنخواہ بھی بڑھ گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے چھ سات ماہ بعد وہ قادیان تشریف لائے اور حضرت خلیفہ اول سے کہنے لگے، مجھے ایک رقعہ لکھ دیں، میں نے میاں صاحب سے ملنا ہے۔اس وقت خلیفہ تو آپ ہی تھے لیکن آپ نے پھر بھی ایک رقعہ بطور سفارش مجھے لکھ دیا۔اور وہ رقعہ انہوں نے اندر بھیجا اور میں باہر آگیا۔انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور مصافحہ تک اپنے جذبات پر قابورکھا۔ان کے ہاتھ میں کچھ نقدی تھی۔انہوں نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیا اور رونے لگ گئے۔ان کی حالت ایسی تھی ، جس طرح کسی بکرے کو ذبح کیا جاتا ہے۔میری عمر چھوٹی تھی اور میں حیران تھا کہ انہیں کیا ہو گیا کہ یہ رور ہے ہیں؟ آٹھ ، دس منٹ کے بعد انہوں نے بولنا شروع لیکن پھر بھی وہ متواتر نہیں بول سکتے تھے۔آدھا فقرہ کہتے اور رونے لگ جاتے۔پھر ایسا کرتے۔آٹھ ، دس منٹ میں جو فقرہ انہوں نے مکمل کیا ، وہ یہ تھا کہ میں ہمیشہ خیال کرتا تھا کہ کتنی دیر کے بعد خدا تعالیٰ نے امت کی التجاؤں کو سنا ہے اور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا ہے۔میں دیکھتا تھا کہ لوگ اپنے پیروں کو سونا پیش کرتے ہیں۔اور آپ کی شان تو ان سے بہت زیادہ ہے۔207