تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 206
اقتباس از تقریر فرموده 02 ستمبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم پڑھتا ہے تو ساتھ ہی یہ ارادہ کرتا ہے کہ میں ان سے زیادہ نمازیں پڑھوں۔وہ جس قدر نیک عمل کرتا ہے، اس کا سے بڑھ کر نیک عمل کرنے کی نیت کرتا ہے۔وہ اگر ایک روپیہ چندہ دیتا ہے اور خواہش یہ رکھتا ہے کہ ہو سکے تو وہ دور و پیہ چندہ دے اور اگر دور و پیہ چندہ دیتا ہے تو وہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ اڑھائی روپے چندہ دے۔غرض مومن کی نیت اس کے عمل سے زیادہ ہوتی ہے۔لیکن تم میں سے بعض کی حالت یہ ہے کہ وہ قربانی کرتے وقت یہ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ ہم نے یہ قربانی کی تو فلاں خرچ کہاں سے پورا کریں گئے ؟ جب تمہارا بچہ بیمار ہو جاتا ہے، اسے ٹائیفا کڈیا ہیضہ ہو جاتا ہے تو کیا تمہاری اس وقت کی قربانی اور دین پر حملہ کے وقت کی تمہاری قربانیاں ایک سی ہیں ؟ اگر دونوں مواقع پر تمہاری قربانیاں ایک سی ہیں ، تب تو کوئی بات ہے۔لیکن تم اگر اپنے بچہ کی بیماری کے وقت تو اپنا لحاف اور پگڑی بھی بیچنے پر تیار ہو جاتے ہو اور اس سے علاج کے اخراجات پورے کرتے ہو اور جب دین کی خاطر قربانی کا وقت آتا ہے تو تم بہانے بنانے لگ جاتے ہو تو تم کیسے مومن ہو؟ تمہارا یہ کہہ دینا کہ تم مومن ہو تمہیں مومن نہیں بنا سکتا۔اور تمہاری یہ دلیل درست نہیں ہو سکتی کہ تم اپنے آپ کو منافق خیال نہیں کرتے بلکہ مومن خیال کرتے ہو تم مومن ہویا منافق ہو، اس کا فیصلہ خدا تعالیٰ نے کرنا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں نہیں فرمایا کہ منافق یہ کہتا ہے کہ میں منافق ہوں، مومن نہیں ہوں۔وہ کہتا یہی ہے کہ میں مومن ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ منافق کہ یہ علامت ہے کہ وہ موقع پر جھوٹ بولتا ہے، غصہ آئے تو گالیاں دینے لگ جاتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے، جھوٹا کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرتا ہے۔اب دیکھ لو، ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہیں نہیں کہا کہ منافق اپنے آپ کو منافق سمجھتا ہے۔وہ اپنے آپ کو مومن سمجھتا ہے لیکن موقع پر جھوٹ بولتا ہے۔وہ اپنے آپ کو مومن سمجھتا ہے لیکن غصہ آنے پر وہ گالیاں دینے لگ جاتا ہے۔اور وعدہ کرتا ہے تو پورا نہیں کرتا۔( جیسے کمزور وعدہ کرنے والے تحریک کے دفتر سے معاملہ کر رہے ہیں۔) اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو اس میں خیانت کرتا ہے۔یہ وہ فیصلہ ہے، جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کے متعلق فرمایا ہے۔اب جو شخص اس کے خلاف منافق کی تعریف یہ کرتا ہے کہ منافق وہ ہے، جو اپنے آپ کو منافق کہتا ہے یا سمجھتا ہے۔اس کی مثال در حقیقت اس پٹھان کی سی ہے، جس نے فقہ کی کتاب ” قدوری یا "کنز پڑھی۔(پٹھان فقہ بہت پڑھتے ہیں۔اور فقہ میں پڑھا کہ حرکت قلیلہ بھی نماز کو توڑ دیتی ہے۔پھر اس نے ایک دن حدیث میں پڑھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روتے ہوئے بچہ کوگود میں اٹھالیا۔تو کہنے لگا، خومحمد صاحب کا نماز 206