تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 205

تحریک جدید - ایک الی تحریک۔۔۔جلد سوم - اقتباس از تقریر فرمود : 02 ستمبر 1951ء جب تک تم اپنی روح میں تبدیلی پیدا نہیں کرتے ہم اس بوجھ کو اٹھا نہیں سکتے " تقریر فرمودہ 02 ستمبر 1951ء غرض یہ ابتلاء اور مصائب ایمان دار کے لئے کوئی چیز نہیں۔ہاں کمزور اس سے خائف ہو جاتا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ دشمن سے لڑائی کی کبھی خواہش نہ کرو۔جس کے معنی یہ ہیں کہ ابتلا ؤں اور مصائب کی دعا نہ کرو۔ہمیشہ دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں ان سے محفوظ رکھے۔لیکن باوجود اس کے مومن کا حوصلہ اتنا بلند ہونا چاہیے کہ ساری دنیا بھی مقابلہ پر آئے تو جسم میں لرزہ پیدا نہ ہو۔جب تک یہ چیز انسان اپنے اندر پیدا نہیں کر لیتا، اس کا یہ خیال کر لینا کہ وہ مامور کی جماعت میں داخل ہے، اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ہمارے رستہ میں کانٹے ہی کانٹے اور قربانیاں ہی قربانیاں ہیں۔اگر ہم یہ خیال کر لیں کہ ہم پر کوئی مصیبت اور ابتلاء نہیں آئے گا تو یہ ہماری کمزوری ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے، میری جماعت میں شامل ہونا پھولوں کی سیج پر چلنا نہیں بلکہ کانٹوں پر چلنا ہے۔اگر تم نازک بدن ہوتا اور کانٹوں پر چلنا برداشت نہیں کر سکتے تو کہیں اور چلے جاؤ۔ہم احرار یوں ہے، جو ہمیں ہر وقت مارنے کے لئے تدابیر کرتے رہتے ہیں نہیں ڈرتے۔ہم تم سے ڈرتے ہیں۔ہم اس شخص سے ڈرتے ہیں، جو ہمارے ساتھ چل پڑتا ہے اور پھر تلواروں سے ڈرتا ہے۔ایسا شخص ہمیں کمزور کر سکتا ہے۔احراریوں کے مقابلہ میں تو ہمارا ایک ایک احمدی ان کے دس دس ہزار آدمی سے زیادہ طاقتور ہے۔غرض منافقت سب سے زیادہ خطر ناک چیز ہے۔مگر لوگوں کو یہ غلطی لگی ہوئی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ منافق خود بھی اپنے آپ کو منافق سمجھتا ہے۔حالانکہ یہ درست نہیں۔منافق اپنے آپ کو مومن ہی سمجھتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ آیا اس کے کام بھی مومنوں والے ہیں یا نہیں ؟ صرف اپنے آپ کو مومن کہہ دینا، مومن بننے کے لئے کافی نہیں۔مومن قربانی میں ہمیشہ آگے بڑھتا ہے اور پھر افسوس کرتا ہے، میں نے اس قدر قربانی نہیں کی ، جس قدر کرنی چاہئے تھی۔حضرت عمر فرماتے ہیں۔نية المؤمن خير من عمله شراح حدیث نے تو اس کی عجیب و غریب تفسیر کی ہے۔لیکن اس کی سیدھی سادھی تفسیر یہی ہے کہ مومن کا نیک کام رنے کا ارادہ، اس کے عمل سے ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔وہ اگر چھ نمازیں، یعنی پانچ فرض اور چھٹی تہجد کی نماز 205