تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 196

اقتباس از خطبه جمعه فرمود 24 نومبر 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور یا رسول اللہ ہم جب تک زندہ ہیں، دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا۔دشمن آپ تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا آئے تو آئے۔پھر انہوں نے کہا، یارسول اللہ ! جنگ تو ایک معمولی بات ہے، یہاں سے تھوڑے فاصلہ پر سمندر ہے، ( عرب لوگ سمندر سے ڈرتے تھے ) آپ ہمیں حکم دیں کہ سمندر میں اپنی سواریاں ڈال دو تو ہم بغیر کسی تردد کے اپنی سواریاں سمندر میں ڈال دیں گے۔غرض جب ایمان بڑھ جاتا ہے تو قربانی حقیر ہو جاتی ہے اور جب ایمان کم ہوتا ہے تو قربانی کی عظمت بڑھتی جاتی ہے۔پس میں یہ نہیں کہتا کہ تم میں سے ایک آدمی پانچ روپے چندہ لکھا کر یہ سمجھے گا کہ وہ لہولگا کر شہیدوں میں شامل ہو گیا بلکہ اس کا پھل بھی اسے ملے گا۔کھیت میں اگر پانچ سیر گندم کا بیج ڈالا جائے تو اس سے پانچ سیر ہی گندم نہیں نکلتی بلکہ وہ کئی من ہو جاتی ہے۔اسی طرح پانچ روپے، پانچ روپے نہیں رہیں گے۔اگر خدا تعالیٰ نے تمہیں طاقت دی تو یہ پانچ دس ہو جائیں گے، دس ہیں ہو جائیں گے، ہیں پچاس ہو جائیں گے اور اگر اور طاقت مل گئی تو ان پچاس روپے کا بیج یقینا اور زیادہ کھیتی نکالے گا۔پس جب میں پانچ کہتا ہوں تو یہ جانتے ہوئے کہتا ہوں کہ جو پانچ روپے کا بیج ڈالے گا آئندہ اس سے کئی گنا فصل کاٹے گا۔ہر دوسرے سال کا چندہ پہلے سال کی فصل ہے اور ہر تیسرے سال کا چندہ دوسرے سال کی فصل ہے۔اور فصل بیج کے برابر نہیں ہوا کرتی بلکہ اس سے کئی گنازیادہ ہوا کرتی ہے۔پس میں نو جوانوں، بوڑھوں اور عورتوں سے کہتا ہوں کہ پانچ روپے کی حقیر رقم دے کر تحریک جدید کی فوج میں اپنے آپ کو شامل کر لوتا تمہارا ایمان بڑھے اور تمہیں پہلے سے بڑھ کر قربانیاں کرنے کی توفیق ملے۔تا کہ جب اسلام کا غلبہ حاصل ہو تو تم فخر سے محسوس کر سکو کہ اس غلبہ میں تمہارا بھی حصہ ہے“۔( مطبوعه روزنامه الفضل 30 نومبر 1950ء) 196