تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 174
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 15 ستمبر 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم تسلیم کر سکے کہ ہاں، میں نے فلاں کو فائدہ پہنچایا ہے۔جو ایسا کہہ سکے، اس کے لئے دوسروں کو فائدہ پہنچانا جائز ہے۔لیکن اگر وہ چھپانے کی کوشش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کام میں نے نہیں کیا ، فلاں افسر نے کیا ہے یا میرے فلاں ساتھی نے کیا ہے یا اس میں یہ غلط فہمی ہو گئی ہے تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس نے جو کچھ کیا ہے، ناجائز کیا ہے۔بہر حال اگر کوئی شخص علی الاعلان کہہ سکے کہ میں نے فلاں شخص کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے تو اس کے لئے دوسرے کی مدد کرنا، جائز ہے۔کیونکہ قانون کے بھی بعض حصے ایسے ہوتے ہیں، جن کے ماتحت دوسرے کی جائز مدد کی جاسکتی ہے۔زیادہ سے زیادہ لوگ یہی کہیں گے کہ اس نے اپنے فلاں دوست یا واقف کی مدد کی ہے۔سو یہ اعتراض کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔کیونکہ انسان کہہ سکتا ہے کہ جو میر ا واقف تھا، اس کو میں فائدہ پہنچا سکتا تھا۔جو واقف ہی نہیں، اس کو فائدہ کیا پہنچایا جاسکتا تھا؟ بہر حال افسروں کو خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے پوری کوشش کرنی چاہئے کہ انہیں دیانتداری کے دو مقاموں میں سے ایک مقام ضرور حاصل ہو جائے۔ایک مقام تو یہ ہے کہ انسان کہے، میں اجتہاد سے کام نہیں لیتا۔مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اجتہاد سے کام لوں اور بعد میں میری ضمیر مجھے ملامت کرے؟ میں لفظی طور پر قانون کے پیچھے چلوں گا، خواہ کسی کو فائدہ ہو یا نقصان۔دوسرا مقام یہ ہے کہ انسان قانون کے اندر رہتے ہوئے عقل اور اجتہاد سے کام لے کر دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے۔مگر اس میں بھی وہ انصاف سے کام لینے والا ہو۔یہ نہ ہو کہ بعض کو نقصان پہنچ جائے یا بعض سے وہ اس لئے حسن سلوک کرنے یا ان کی مدد کرنے کے لئے تیار نہ ہو کہ میرا محدود دائرہ محدود دوستوں تک ہی قائم رہے گا کسی اور کو میں اس میں شامل کرنے کے لئے تیار نہیں۔باقی اپنے کاموں میں دیانتداری اور محنت اور چستی سے کام لینا، خصوصا نو جوانوں کے لئے ایک نہایت ہی ضروری چیز ہے۔میرا تجربہ یہ ہے کہ جہاں بھی نوجوانوں کو کام پر لگایا جاتا ہے، وہاں ان کی ستیاں اور غفلتیں اتنی نمایاں ہوتی ہیں کہ کام رک جاتا ہے یا کم از کم وہ ترقی نہیں ہوتی ، جو عام حالات میں ہونی چاہئے۔گورنمنٹ کے دفتروں میں تو انسان مجبور ہوتا ہے کہ محنت کرے، سلسلہ کے کاموں میں بھی انسان کو محنت اور قربانی اور دیانت اور چستی اور وقت کی پابندی کا نمونہ دکھانا چاہئے۔میں نے دیکھا ہے کہ گورنمنٹ کے محکموں میں ہمارے جہاں بھی احمدی دوست کام کر رہے ہیں، وہ نہایت مفید ثابت ہو رہے ہیں۔کیونکہ وہ محنت اور عقل سے کام کرتے ہیں اور گورنمنٹ بھی جانتی ہے کہ یہ لوگ ہم پر بوجھ نہیں بلکہ ہمارے لئے کمائی پیدا کرنے والے ہیں۔اگر ایک شخص ایک ہزار روپیہ تنخواہ لیتا ہے اور میں ہزار 174