تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 175
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 ستمبر 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد گورنمنٹ کو کما کر دیتا ہے تو وہ یقیناً ایک مفید وجود ہوتا ہے اور اس کی ہر جگہ قدر کی جاتی ہے۔یہی نمونہ ہماری جماعت کے نوجوانوں کو اپنے تمام کاموں میں دکھانا چاہئے۔اور چستی اور محنت اور دیانتداری کے ساتھ اپنا ہر کام سرانجام دینا چاہئے۔میرا ارادہ یہاں صرف دس، بارہ دن ٹھہرنے کا تھا مگر پھر میں نے پانچ دن اور بڑھا دیئے تاکہ دوسرا جمعہ بھی میں یہاں پڑھا سکوں اور آپ لوگوں کو اپنے فرائض کی طرف توجہ دلاؤں۔یہ زندگی صرف چند روزہ ہے۔اس دنیا میں نہ میں نے ہمیشہ رہنا ہے، نہ آپ نے۔اگر ہم خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لئے اپنے ہاتھ سے ایک نیک بنیاد قائم کر دیں گے تو ہم اور ہماری نسلیں ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جائیں گی لیکن اگر ہم اس نیک بنیاد کو قائم کرنے میں حصہ نہیں لیں گے تو آپ لوگوں کو یا درکھنا چاہئے کہ گوروحانی نقطہ نگاہ کے ماتحت ہم کچھ کریں یا نہ کریں، یہ سلسلہ بہر حال ترقی کرتا چلا جائے گا۔کیونکہ یہ کسی انسان کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ سلسلہ ہے۔لیکن دنیوی نقطہ نگاہ کے ماتحت ہم اور ہماری اولادیں ان انعامات سے محروم ہو جائیں گی ، جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس سلسلہ کی خدمت کرنے والوں کے لئے مقدر ہیں اور جو لازماً ایک دن ملنے والے ہیں۔زمین ٹل جائے ، آسمان ٹل جائے ، آخر احمد بیت نے دنیا میں قائم ہونا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کی ایک اہل تقدیر ہے۔اس کی طرف یہ منسوب کرنا کہ اس نے اپنا ایک مامور بھیجا مگر وہ ہار گیا، ایک پاگل پن کی بات ہے۔اگر خدا ہے اور اگر خدا اپنے نبیوں کو بھیجتارہا ہے اور اگر خدا تعالیٰ نے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا تھا تو ہم اپنے وجود میں شبہ کر سکتے ہیں، ہم اپنے کان ، ناک، منہ اور زبان میں شبہ کر سکتے ہیں، ہم اپنے بیوی بچوں کے وجود میں شبہ کر سکتے ہیں مگر ہم اس بات میں کوئی شبہ نہیں کر سکتے کہ خدا تعالیٰ کا مامور اور مرسل جس تعلیم کو لے کر آیا ہے، وہ یقینا اپنے وقت پر کامیاب ہوگی۔دشمن اس سے ٹکرائے گا تو پاش پاش ہو جائے گا۔جس طرح ایک دریا کی زبر دست لہریں چٹان سے ٹکرا کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوتی ہیں ، اسی طرح ان کی مخالفت ناکام ثابت ہوگی اور یہ سلسلہ عروج حاصل کرتا چلا جائے گا۔ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر سے ہم نے کتنا فائدہ اٹھایا ہے؟ لوگ نہ ہونے والی چیزوں کے متعلق اپنا پور از ور صرف کر دیا کرتے ہیں اور ہم تو وہ کام کر رہے ہیں، جو یقینا ہونے والا ہے اور جس کی پشت پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور ملتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے 175