تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 173
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 15 ستمبر 1950ء تو حقیقت یہ ہے کہ ایک عرصہ کی تبلیغ کے بعد بھی جو شخص بیعت نہیں کرتا، اس کے متعلق یہ سمجھنا کہ وہ احمدیت کے قریب آچکا ہے غلطی ہوتی ہے۔ایک حد تک تبلیغ کرنے کے بعد اصرار کرنا چاہئے کہ اب آپ فیصلہ کریں اور ہمیں بتائیں کہ آپ احمدیت میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں ؟ اگر احمدیت کی آپ کو سمجھ آ چکی ہے تو بیعت کر کے جماعت کے بوجھوں کو اٹھائیے۔ورنہ اس دھو کہ میں نہ خود رہیے ، نہ دوسروں کو رکھئے کہ آپ صداقت کو مان رہے ہیں۔اگر اس طرح اصرار کر کے سمجھایا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ صداقت کو نہ مانا جائے تو دل سیاہ ہو جاتا ہے تو ہزاروں ہزار لوگ اب بھی غیر احمدیوں میں ایسے ہیں ، جو مان لیں گے۔لیکن ہزاروں ہزار ایسے بھی نکلیں گے، جو کہیں گے کہ ہم تو محض باتیں کر رہے تھے۔ایسے لوگوں کے متعلق ماننا پڑے گا کہ وہ صرف منافق ہیں، جو منہ کی باتوں سے دوسروں کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔باقی بڑی چیز نیک نمونہ ہوتی ہے۔تبلیغ بغیر نیک نمونہ کے نہیں ہو سکتی۔اگر ہم باتیں تو بڑی اچھی کرتے ہیں لیکن ہمارا عمل اسلام کے مطابق نہیں تو ہمارے منہ کی باتیں لوگوں پر کوئی اثر پیدا نہیں کر سکتیں۔پس ہماری جماعت کے تمام افراد کو ہمیشہ اپنے اعمال پر کڑی نگاہ رکھنی چاہئے اور اپنے برے نمونہ سے دوسروں کے ٹھوکر کا موجب نہیں بننا چاہیے۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت کے اکثر ملازم پیشہ لوگوں کے متعلق جھوٹ یا سچ یہ شکایت پائی جاتی ہے کہ وہ جنبہ داری کرتے ہیں اور اپنی پارٹی کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے دوسروں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ باتیں کس حد تک درست ہیں؟ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس قسم کی باتیں لوگوں میں اکثر ہوتی رہتی ہیں۔پس ہماری جماعت کے جو افراد، جس جس کام پر بھی مقرر ہیں، ان کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ ان کا نمونہ احمدیت کے بڑھنے یا نہ بڑھنے میں بہت کچھ دخل رکھتا ہے۔اور ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے فرائض کو دیانتداری کے ساتھ ادا کریں۔دنیا میں دو قسم کے مومن ہوتے ہیں۔ایک اجڈ مومن ہوتا ہے ، وہ کہتا ہے، میں نے عقل سے کام نہیں لینا ، صرف قانون سے کام لینا ہے، چاہے کسی کو فائدہ پہنچے یا نقصان۔ایسے شخص کو خواہ ہم اجد کہیں، وحشی کہیں، کم عقل کہیں لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس میں ایمان ضرور ہوتا ہے۔اس کے مقابلہ میں ایک عقلمند مومن ہوتا ہے، اسے جہاں قانون اجازت دیتا ہے، وہاں وہ دوسروں کو فائدہ پہنچا دیتا ہے اور اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ لوگ اس پر اعتراض کریں گے۔وہ جس شخص کو بھی مظلوم دیکھتا ہے یا جس کو بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے اور قانون اس کے راستہ میں حائل نہیں ہوتا، اسے فائدہ پہنچا دیتا ہے۔اور قانون کے اندر رہتے ہوئے ، دوسرے کو فائدہ پہنچانے کے یہ معنی ہیں کہ وہ اپنے افسروں کے سامنے علی الاعلان 173