تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 139
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اپریل 1950ء مناسب وقت پر تبدیل کرنا بھی تحریک جدید کے ذمہ ہے۔پھر ان کے کام کی نگرانی کرنا اور یہ دیکھنا کہ و پیچ طور کام کرتے ہیں یا نہیں؟ وہ جماعت کی تنظیم کے لئے کیا کچھ کر رہے ہیں اور کیا کر سکتے ہیں؟ پھر ان ممالک میں مقامی مبلغ تیار کرنا تا وہ مقامی تبلیغ کا کام سنبھال سکیں۔یہ بیسیوں قسم کے کام ہیں، جو تحریک جدید کے سپرد ہیں۔لیکن کیا تحریک جدید نے کبھی بھی ان باتوں پر غور کیا ہے؟ اور تو اور جو مبلغ باہر بھیجا جاتا ہے، اس کے تبادلہ کا بھی انہیں کبھی خیال نہیں آتا۔آخر اس کے بیوی بچے ہوتے ہیں، ماں باپ ہوتے ہیں، بہن بھائی اور دوسرے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں۔لیکن ان کے واپس بلانے کا انہیں خیال تک نہیں آتا۔اب میں نے جبر آ پانچ سات مبلغین کو واپس بلایا ہے، ورنہ انہیں اگر ہیں سال بھی باہر گذر جاتے ، تب بھی تحریک جدید کو ان کے واپس بلانے کا خیال پیدا نہ ہوتا۔یہ سب کام تحریک جدید کے ہیں لیکن وہ ان میں سے کوئی کام بھی نہیں کر رہی۔اگر وہ مبلغوں کو واپس بلانے کی سکیم تیار کرتی تو اس کے سب کام کے مقابل پر یہ بات ایسی ہوتی ہے، جیسے کسی کی جوتی پھٹی ہو اور اس کا تلوہ نکل گیا ہو اور وہ موچی کے پاس جا کر اس کی مرمت کرالے لیکن یہ لوگ اتنا بھی نہیں کراتے۔گویا ان کے اپنے فائدہ کا کام ہوتا ہے، وہ بھی نہیں کرتے۔اب اگر کوئی شخص اپنی پھٹی ہوئی جوتی موچی سے مرمت کرائے اور کوئی شخص اس سے یہ پوچھے کہ تم نے قوم کے فائدہ کے لئے کون سا کام کیا ہے؟ اور وہ جواب دے کہ میں نے اپنی پھٹی ہوئی جوتی درست کرائی ہے تو سب لوگ ہنس پڑیں گے اور کہیں گے کہ یہ بھی کوئی قومی کام ہے۔لیکن صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید اتنا بھی نہیں کرتیں۔یہ قدرتی بات ہے کہ جس شخص کو باہر بھیجا جائے ، اس کو واپس بھی بلانا چاہئے۔لیکن انہیں اس کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔پھر سوال یہ ہے کہ اگر ان کا کوئی قائمقام وہاں نہیں جائے گا تو وہ آئیں گے کس طرح ؟ اور جب تک ان کا قائمقام تیار نہیں کیا جائے گا وہ وہاں جائے گا کس طرح؟ اب تو میں نے جماعت میں وقف کی تحریک کر دی ہے اور کچھ نہ کچھ آدمی ہمارے پاس موجود ہیں۔مجھے حیرت آتی ہے کہ جب امریکہ کے مبلغ کو واپس بلانے کا سوال پیدا ہوا کہ وہ سالہا سال سے وہاں بیٹھا ہے، اسے واپس بلانا چاہئے۔تو اس وقت امریکہ کے مبلغ کی حیثیت میں اس کے قائمقام کے طور پر جو نام پیش کئے گئے، ان میں ایک مڈل پاس بھی تھا۔اس وقت بیرونی تبلیغ کا کام بھی صدرانجمن کے ماتحت تھا۔مجھے اب تک حیرت ہے کہ وہ شخص جو دفتر میں کلرک کا کام بھی نہیں سنبھال سکتا تھا ، اسے ایک ایسے ملک میں بھجوانے کی تجویز کی گئی، جو اپنے علم اور تجربہ اور روشن خیالی کی وجہ سے اپنے آپ کو دنیا کا لیڈر 139