تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 136
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 27 جنوری 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم شعائر کو زندہ رکھنے کی رغبت پیدا کرو۔بھول جاؤ، اس بات کو کہ کوئی تمہارا دشمن ہے۔بھول جاؤ، اس بات کو کہ کوئی تمہاری مخالفت پر آمادہ ہے۔جب تم خدا تعالیٰ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاؤ گے، جب دنیا کی طرف تمہاری پیٹھ ہوگی تو وہ ہاتھ جو نمبر لے کر تمہاری پیٹھ پر حملہ کے لئے بڑھے گا، خدائے واحد سے مل کر دے گا۔وہ دماغ، جوتم پر حملہ کی تدبیر سوچے گا، بریکار کر دے گا۔لیکن شرط یہ ہے کہ تم اپنا منہ خدا تعالیٰ کی طرف کر لو اور اپنی پیٹھ بندوں کی طرف پھیر لو۔اگر تم ایسا کرو گے تو دنیا کی کوئی مصیبت تمہیں کچل نہیں سکتی۔تم بے وقوفی سے یہ نہ سمجھ لینا کہ کسی پر موت نہیں آئے گی یا کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔انبیاء پر بھی موتیں آئیں، انبیاء بھی شہید ہوئے ، ان کی جماعتیں بھی شہید ہوئیں۔جو میں کہتا ہوں ، وہ یہ ہے کہ یہ جماعت مٹ نہیں سکتی۔اور جب میں تم کہتا ہوں تو اس سے مراد جماعت ہے نہ کہ تم۔ہو سکتا ہے کہ تم میں سے بعض لوگ مارے جائیں بلکہ غالب ہے تم میں سے بعض مارے جائیں۔ہو سکتا ہے کہ تم میں سے بعض گھروں سے نکالے جائیں بلکہ غالب ہے کہ وہ گھروں سے نکالے جائیں۔ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض قیدوں میں ڈالے جائیں بلکہ غالب ہے کہ وہ قیدوں میں ڈال دیئے جائیں۔لیکن جو بات نہیں ہو سکتی ، وہ یہ ہے کہ اگر تم لوگ خدا تعالیٰ سے صلح کر لوتو تم یعنی تمہاری قوم تباہ ہو جائے تم بحیثیت احمدی ہلاک نہیں ہو سکتے ہم بحیثیت جماعت کے مٹ نہیں سکتے تم بحیثیت جماعت کے مغلوب نہیں ہو سکتے۔کیونکہ جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف منہ کرے ، لازمی امر ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی طرف منہ کرے گا اور جب خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہو کہ کوئی حملہ کر رہا ہے تو وہ اسے مقصد میں کامیاب کیسے ہونے دے گا؟ پولیس کی موجودگی میں، اگر وہ دیانت دار ہو تو کوئی حملہ نہیں کر سکتا۔پھر خدا تعالیٰ کی موجودگی میں کوئی حملہ کیسے کرسکتا ہے۔پس دوسری بات یہ ہے کہ اپنے اندر اخلاص پیدا کرو۔تم روحانی سلسلہ کے افراد بنو۔نمازوں کے پابند بنو۔ذکر الہی پر زور دو۔اسلام کے شعائر کو زندہ رکھنے کی کوشش کرو۔اپنے اندر طہارت پاکیزگی اور تقویٰ پیدا کرو۔نہ تم کسی کی تعریف سے خوشی محسوس کرو اور نہ کسی کی مذمت سے ڈرو۔کیونکہ جو خدا تعالیٰ کے لئے ہو جائے، دنیا کی تعریف اسے کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔خدا کی تعریف ہی اسے فائدہ پہنچائے گی۔اگر تم خدا کے لئے ہو تو دنیا کے لوگوں سے ڈرنا، بے معنی بات ہے۔تمہیں صرف اور صرف خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔کیونکہ جوشخص کہتا ہے کہ میں خدا کا ہوں اور پھر وہ بندوں سے ڈرتا ہے یالوگوں کی تعریف سے خوش ہوتا ہے، وہ جاہل یا منافق ہے“۔مطبوعه روزنامه الفضل 16 فروری 1950ء) 136