تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 135

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 جنوری 1950ء دور ثابت کر دیا کہ میں ہی حق پر ہوں۔اب بھی یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ اس بات میں کہ وہ وقت دور نہیں، جب وہی زبان ، جو جماعت کی تعریف میں لگی ہوئی ہے، وہ احمدیوں کی موت کا فتویٰ دے، میں ہی حق پر تھا۔تم میں وہ لوگ بھی بیٹھے ہوئے ہیں، جو کہتے تھے ، جماعت کے لئے فضا اچھی ہے، ہمیں یہ اچھے دن گزار لینے دو لیکن میں کہتا تھا کہ یا درکھو، تھوڑے دنوں میں ہی یہ فضا تمہارے خلاف ہو جائے گی اور تم پچھتاؤ گے کہ یہ اچھا وقت ہم نے تبلیغ میں کیوں نہ گزارا۔وہ دن، جو آنے والے تھے ، آگئے ہیں اور تم میں سے کئی لوگوں کے پیروں تلے سے زمین نکل رہی ہے۔تم میں سے بعض تو قادیان کے ہمارے ہاتھ سے نکل جانے کی وجہ سے ڈگمگا گئے تھے اور ڈگمگائے ہوئے ہیں۔میرا ان کو بھی یہی جواب تھا۔جیسے حضرت ابو بکر نے کہا تھا ، من كان يعبد محمدًا فان محمد اقدمات۔جو تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا تھا، وہ دیکھ لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں۔ومن كان يعبد الله فان الله حي لا يموت۔اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا ، وہ یادر کھے کہ اس کا خدا اب بھی زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔میں بھی یہ کہتا ہوں کہ مـن كـان يـعـبـد قادیان فان قادیان قدوضع فی ایدی المخالفين۔تم میں سے جو شخص قادیان کی پرستش کرتا تھا ، وہ سن لے کہ قادیان اب مخالفین کے ہاتھ میں ہے، ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ومن كان يعبد الله فان الله حي لا يموت اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا، اس کا خدا اب بھی زندہ ہے ، اس کا خدا اب بھی آزاد ہے، اس کا خدا اب بھی سب پر غالب ہے اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔اسی طرح آج بھی کچھ لوگ ہیں ، جو پہلے دشمن کی تعریفوں پر خوش تھے اور اس لذت کے زمانہ کولمبیا کرنا چاہتے تھے مگر اب وہ کا نپتے ہیں لرزتے ہیں اور ڈرتے ہیں۔میں ان کو بھی کہتا ہوں اور پھر میری بات ہی سچی نکلے گی کہ تم نے تبلیغ کے وقت کو ضائع کیا اور ملمع کو سونا کہا لیکن وہ ایک دھوکا تھا، اب پھر تم دھوکا کھا رہے ہو اور دشمن کو طاقت ور سمجھتے ہو۔تمہیں وہ چلتے پھرتے اور زندہ دکھائی دیتے ہیں مگر مجھے تو ان کی لاشیں نظر آ رہی ہیں اور میں دیکھ رہا ہوں کہ دشمن نہ زندہ ہے اور نہ غالب ہے۔غالب ہم ہیں، جن کے ساتھ غالب خدا ہے۔وہ سر، جو خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر بندوں کی پرستش میں لگے ہوئے ہیں، کٹ جائیں گے اور بے دین مریں گے۔مگر جو خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں، تمام مشکلات پر غالب آئیں گے۔مگر یہ بھی یاد رکھو کہ خدا تعالی کی مدداسی کا ساتھ دینے کے لئے آتی ہے، جو خدا تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہے۔تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو تم اپنے اندر خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرو، اپنے اندر ذکر الہی اور نمازوں کی پابندی پیدا کرو اور دین اسلام کے 135