تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 137

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 28 اپریل 1950ء اپنے حوصلے، افکار اور خیالات بلند بناؤ، ان کے بغیر دشمن کا مقابلہ ممکن نہیں خطبہ جمعہ فرمود و 28 اپریل 1950ء میں نے مدت سے جماعت کو اس طرف توجہ دلانی شروع کی ہے کہ اسے اپنی ذمہ داریوں کو زیادہ سے زیادہ محسوس کرنا چاہئے۔سب سے پہلے فرض کا محسوس کرنا ، ان مرکزی انجمنوں پر عائد ہوتا ہے، جو اس کام کے لئے مقرر ہیں یعنی صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید۔اور پھر صدرانجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے ناظر اور وکلاء یعنی جن اعضاء سے یہ دونوں انجمنیں بنتی ہیں، ان پر یہ فرض عائد ہوتا ہے۔اور پھر ان سے اتر کر دوسرے کارکن، جو ان کے ماتحت ہیں، ان پر یہ فرض عائد ہوتا ہے۔ان کے علاوہ نہایت ہی اہم طور پر فرض جماعت کے علماء پر عائد ہوتا ہے، جو مذہبی خیالات اور اخلاقی معیاروں کے لئے ایک راہنما کی حیثیت رکھتے ہیں اور ایک نمونہ کی شکل میں دیکھے جاتے ہیں۔ان سب کو یا درکھنا چاہئے کہ بڑے کاموں کے لئے دماغ ہر وقت کام میں لگائے رکھنا ضروری ہے ہوتا ہے۔اور یہی وہ عادت ہے، جس کے ماتحت کوئی شخص کسی بڑے کام کے قابل ہو سکتا ہے۔یہ ہو سکتا ہے کہ دماغ کو ہر وقت کام میں لگائے رکھنے کے بعد بھی کوئی شخص کسی بڑے کام کے قابل نہ ہو لیکن یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص اپنے دماغ کو ہر وقت کام میں لگائے رکھے اور پھر وہ کسی بڑے کام میں نا کام ہو گیا ہو۔ہوسکتا ہے کہ ایک شخص اپنے دماغ کو ہر وقت کام میں لگائے رکھے اور وہ غلطی پر ہو لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ دماغ کو ہر وقت کام پر نہ لگانے والا ہو اور پھر وہ کوئی بڑا کام کر سکے۔انبیائے کرام کو ہم دیکھتے ہیں کہ رات دن وہ اپنی قوم کی اصلاح و بہبودی کے فکر میں لگے رہتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی نسبت فرماتے ہیں کہ میں سوتے ہوئے بھی جاگتا ہوں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ سوتے ہوئے واقعی جاگ رہے ہوتے تھے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں سونے لگتا ہوں ، تب بھی قوم کی اصلاح و بہبود کے لئے سوچ رہا ہوتا ہوں اور جاگنے لگتا ہوں، اس وقت بھی میرا دماغ انہیں افکار میں مشغول ہوتا ہے۔گویا آپ کا یہ دعوی تھا کہ میں چوبیس گھنٹے قوم کی ترقی واصلاح کے کاموں اور ان کے صحیح طور پر سر انجام پانے کی فکر میں لگا رہتا ہوں۔حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نماز پڑھا رہا ہوتا 137