تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 120

خطبہ جمعہ فرمودہ 16 دسمبر 1949ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم کوئی بات نہیں مدینہ جالینے دو۔وہاں جا کر سب سے معزز شخص یعنی میں سب سے ذلیل شخص یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ( نعوذ باللہ من ذالک) مدینہ سے نکال دے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس یہ بات پہنچی۔آپ نے انصار کو اکٹھا کر کے دریافت کیا کہ یہ کیا بات ہے؟ انصار نے جواب دیا، یارسول اللہ اعبداللہ بن ابی بن سلول نے یہ بات کہی ہے۔جو سزا آپ فرما ئیں ، ہم اسے دینے کو تیار ہیں۔بعض نے کہا اگر آپ اجازت دیں تو ہم اسے قتل کر دیں۔آپ نے فرمایا میں یہ نہیں چاہتا کہ اسے قتل کروں۔عبداللہ کا اپنا لڑ کا آپ کے پاس آیا۔یہاں تو دور کی بھی رشتہ داری ہوتی ہے تو لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ظلم ہوا۔مگر وہاں اس کا اپنا لڑکا آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں نے سنا ہے کہ میرے باپ نے ایسی بات کہی ہے۔یا رسول اللہ! ایسے شخص کی سزا سوائے قتل کے اور کوئی نہیں، اسے قتل کی ہی سزاد ینی چاہئے۔مگر یارسول اللہ ! ایک بات میرے ذہن میں آئی ہے، وہ یہ کہ ممکن ہے کہ آپ کسی صحابی کو حکم دیں کہ وہ میرے باپ کو مار دے اور کسی وقت مجھ میں کمزوری آجائے اور میں کہوں کہ چونکہ اس شخص نے میرے باپ کو قتل کیا تھا، اس لئے میں اسے قتل کر دوں۔یا رسول اللہ ! اس چیز سے بچنے کے لئے میری تجویز یہ ہے کہ آپ مجھے ہی حکم دیں کہ میں اپنے باپ کو قتل کر دوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ، ہم ایسا کوئی اقدام کرنے کے لئے تیار نہیں۔صحابہ کی نظروں میں یہ بات ختم ہوگئی کہ اس رحیم ترین انسان نے اس ظالم ترین منافق کو معاف کر دیا۔مگر بیٹے کے لئے یہ بات ختم نہ ہوئی۔اس کے دل میں غصہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے متعلق میرے باپ نے یہ لفظ کہے تھے کہ مدینہ پہنچ لینے دو، وہاں پہنچ کر سب سے معزز شخص یعنی میں سب سے ذلیل شخص یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو (نعوذ بالله من ذالک) مدینہ سے باہر نکال دے گا۔لشکر واپس آرہا تھا۔جس وقت مدینہ کی دیوار میں نظر آئیں ، عبداللہ کے بیٹے نے تلوار نکالی اور گلی کے دروازے پر کھڑا ہوگیا اور کہا کہ میرا باپ مدینہ آ گیا ہے، یہ وہ جگہ ہے، جس کے متعلق تم نے یہ الفاظ کہے تھے کہ میں وہاں پہنچ کر سب سے ذلیل شخص یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو (نعوذ باللہ من ذالک ) مدینہ سے باہر نکال دوں گا۔خدا کی قسم میں آج تمہیں گھی میں گھنے نہیں دوں گا، جب تک تم میرے سامنے یہ اعلان نہ کرو کہ میں سب سے زیادہ ذلیل شخص ہوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سب سے زیادہ معزز ہیں۔جب تک عبداللہ نے یہ اعلان نہیں کیا ، اس کے بیٹے نے اسے شہر میں گھنے نہیں دیا۔تم سمجھ سکتے ہو کہ اس قسم کے جذبات کے مقابلہ میں بھلا منافقت پنپ سکتی ہے؟ ہاں اگر تم ان جذبات کو چھوڑ دو گے تو منافقت ہر جگہ پہنے گی اور تمہاری جڑوں میں تیل ڈالے گی۔120