تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 121
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 16 دسمبر 1949ء پس میں مولویوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اخلاق درست کریں ، ورنہ مولویت انہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچائے گی۔ان سے وہی سلوک کیا جائے گا ، جو منافقوں سے کیا جاتا ہے۔اور میں کالجوں اور سکولوں کے افسروں اور اساتذہ سے یہ کہتا ہوں کہ وہ اپنے اخلاق میں تبدیلی پیدا کریں۔ورنہ جو مبلغ برانمونہ دکھائے گا، میں انہی کو ذمہ دار ٹھہراؤں گا۔اور میں جماعت کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ آپ کی قربانیوں اور ایثار نے خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچا اور جماعت، جو ایک کو نیل کی طرح تھی، اسے ایک درخت کی طرح بنا دیا۔کونپل پر کسی جانور کا پاؤں آ جائے تو وہ تباہ ہو جاتی ہے اور درختوں میں اگر کیٹر ا لگ جائے تو انہیں کسی کام کا نہیں چھوڑتا، وہ سوکھ جاتے ہیں۔تم کسی جانور کے پاؤں سے مسلے جانے کی حالت سے تو نکل چکے ہولیکن کیڑے کی آفت سے ابھی دور نہیں ہوئے۔اس سے بچنے کا طریق یہی ہے کہ تم منافقت کو منہ نہ لگاؤ۔بے شک منافق کو یہ بات بری لگے گی اور وہ کہے گا کہ دیکھو یہ ختی پر اتر آئے ہیں لیکن جب تک میری زندگی قائم ہے، میں تو انہیں سوراخوں سے نکال نکال کر باہر پھینک دوں گا۔کیونکہ میں نے نہ خلافت چاہی تھی اور نہ خلافت کا بھوکا تھا۔اگر تم سب مجھے چھوڑ دو گے تو مجھے اس کی کچھ پرواہ نہیں۔مجھے تو ایک چیز کی ہی بھوک تھی ، بھوک ہے اور رہے گی کہ خدا تعالیٰ مجھ سے کوئی خدمت لے لے۔اگر جماعت اس میں روک بنے گی تو مجھے اس بات میں خوشی ہوگی کہ وہ مجھے چھوڑ دے۔میرے ساتھ چاہے ایک ہی آدمی رہ جائے، مجھے کچھ خوف نہیں۔میں سمجھتا ہوں ایک سے ہی ہم کروڑوں بن جائیں گے۔منافق یہ نہ سمجھیں کہ وہ مجھے کوئی نقصان پہنچائیں گے۔بہتیروں نے یہ کوشش کی اور وہ ناکام رہے، اب یہ بھی ناکام ہوں گے۔جس کو خدا تعالیٰ کی پناہ ہو، اس کو کسی کا کیا ڈر؟ میں تو خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوں اور اسی کا ہتھیار ہوں۔مجھے نہ دشمن نقصان پہنچا سکتے ہیں ، نہ اپنے پہنچا سکتے ہیں۔میں ایک کام کے لئے کھڑا ہوا ہوں، جب تک اس کام کا وہ حصہ، جو میرے سپرد ہے، ختم نہ ہوئے، مجھے دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔اور جب وہ وقت آئے گا کہ مجھے اس دنیا سے جانا ہو گا تو مجھے وہاں جانا نا پسندیدہ نہیں ہوگا۔کیونکہ اگلے جہاں میں ، اس جہاں کے لوگوں کی نسبت میرے زیادہ پیارے لوگ بستے ہیں۔(مطبوعه روزنامه الفضل 22 فروری 1950ء) 121