تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 119

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 16 دسمبر 1949ء فورم مبلغوں کے سامنے چوں چرا نہیں کرتے تھے۔مبلغ ہر طرح ان سے سلسلہ کا کام لے رہے تھے لیکن جب اپنے ہی مبلغ نے یہ کہا کہ ہمارا امام ایسا ہے۔تو ان کے لفظ تھے کہ اگر تم پنجابی ہی آپس میں جھگڑتے ہو تو تم ہماری اصلاح کس طرح کر سکتے ہو؟ یہ معمولی بات نہیں۔یہاں کوئی فتنہ ہو تو اس کا دبانا آسان ہے۔لیکن جب باہر کسی ملک میں فتنہ پھیل جائے تو اس کا دبانا، ہمارے بس کی بات نہیں رہتی۔یہ بات نہیں کہ ہم ایسے فتنوں کے دبانے میں کامیاب نہیں ہوتے ، اکثر جگہوں پر ہم کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن بعض جگہوں پر جماعتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔پس یہ بہت احتیاط والی بات ہے، یہ بہت ڈر اور خوف والی بات ہے۔تم اپنے اندر ایسا جذبہ ایمان پیدا کرو کہ جو شخص نظم کو توڑتا ہے تم اسے منہ نہ لگاؤ۔وہ تمہارا دشمن ہے۔اگر تمہارا یہ جذبہ انتہاء کو پہنچ جائے تو ممکن نہیں کہ یہ لوگ اپنی خرابی کو دور کرنے کی کوشش نہ کریں۔یہ جذ بہ صحابہ میں کتنا شاندار تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جنگ تبوک پر تشریف لے گئے، تین مخلص آدمی پیچھے رہ گئے ، وہ بے ایمان نہیں تھے بلکہ کسی وجہ سے ان سے یہ غلطی سرزد ہوگئی۔اس وقت ایک چوتھے صحابی بھی تھے ، جو پیچھے رہ گئے۔انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے باہر کسی کام سے بھیجا تھا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم باہر نکل چکے تھے، وہ گھر آئے۔کئی دن گھر سے باہر رہنے کی وجہ سے انہیں قدرتا یہ خیال آیا کہ میں اپنی بیوی کو پیار کروں۔وہ بنتے بنتے اندر گئے اور اپنی بیوی کو پیار کرنا چاہا۔لیکن اس نے انہیں دھکا دے کر پیچھے کر دیا اور کہا تمہیں شرم نہیں آتی۔خدا کا رسول لڑنے کے لئے گیا ہے اور تمہیں بیوی سے پیار سوجھ رہا ہے۔دیکھو، ان میں اسلام کی کتنی غیرت تھی۔شاید آج کل کی عورت اس بات پر ناراض ہو جائے کہ اس کے خاوند نے اس سے پیار کیوں نہیں کیا ؟ لیکن وہ صحابیہ اس بات پر ناراض ہوگئیں کہ ان کے خاوند نے ان سے کیوں پیار کرنا چاہا ہے؟ حالانکہ ان کا کوئی قصور نہیں تھا۔صرف اتنی بات تھی کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جنگ میں تبوک پر تشریف لے جانے کے بعد گھر پہنچے تھے۔لیکن بیوی کی منشاء یہ تھی کہ وہ وہیں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ مل جاتے اور گھر آتے ہی نہ۔اس بات کا یہ نتیجہ تھا کہ ان میں اتنی طاقت پیدا ہوگئی کہ دنیا ان سے خوف کھانے لگی۔ایک دفعہ ایک جنگ کے موقع پر جب صحابہ میں آپس میں شکر رنجی ہوگئی تو عبد اللہ بن ابی بن سلول نے اس موقع کو غنیمت جانا اور چاہا کہ مسلمانوں میں آگ سلگا دے۔اس نے کہا کہ کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ ان مہاجرین کو سر پر نہ چڑھاؤ ؟ تم نے انہیں سر چڑھایا تو ذلت دیکھنی پڑی۔اب بھی 119